• صارفین کی تعداد :
  • 5436
  • 8/3/2008
  • تاريخ :

شادی کیلئے مناسب عمر

شادی کی انگهوٹهی

نوجوانوں کے درميان ايک مسئلہ جنسي جذبات اور احساسات سے متعلق بھي پايا جاتا ہے اور اس کا تدارک جلدي اور صحيح موقع پر ازدواج کے ذريعہ ہي سے ممکن ہے۔ شادي کے بارے ميں ميرا اپنا نظريہ يہ ہے کہ اگر شادي سے متعلق خرافات (افسوسناک بات يہ ہے کہ تکلفات و اخراجات ہمارے معاشرہ ميں آہستہ آہستہ اپني جڑيں گہري کر رہے ہيں) سے اجتناب کيا جائے تو ايک نوجوان مناسب وقت اور موقع پر اپني شادي کرسکتا ہے۔ يہي عمر ہے کہ جو ازدواجي زندگي کے آغاز کے لئے بہت مناسب ہے ۔ افسوس کا مقام ہے کہ کچھ عرصہ سے مغربي کلچر ، ثقافت و مزاج کي پیروي کرتے ہوئے بعض افراد نے ہمارے معاشرے ميں بھي ديرسے شادي کرنے کي رسم ڈال دي ہے ،جب کہ اسلام اس نظریہ کا سراسر مخالف ہے۔ اسلامي اعتبار سے شادي جس قدرنوجواني کے زمانے سے قريب ہو، اتنا ہي بہتر ہے۔ ظاہر سي بات ہے کہ جب بےجا اخراجات مثلا باقاعدہ ايک عليحدہ گھر ہو، مستقل طور پر کوئي نوکري يا کاروبار ہو يا ديگر ہزارہا مسائل ازدواجي زندگي سے منسلک کر دئیے جائيں گي تو لا محالہ شادي ميں تاخير کا مسئلہ پيش آئے گا۔ جبکہ ان ميں سے ايک بھي شرط ازدواجي زندگي شروع کرنے کے لئے ضروري نہيں ہے۔اگر مذکورہ بےجا اخرجات ميں حقيقي طور پر کمي کر لي جائے تو يقينا شادياں اپنے صحيح اور مناسب وقت پر انجام پذير ہونے لگيں گي اور شريعت اسلامي ميں بھي اس بات کي بہت تاکيد کي گئي ہے۔ بہرحال يہ مسئلہ بھي نوجوانوں کي پریشانیوں ميں اضافہ کا باعث ہے۔

                                            تحریر:  حضرت آیت اللہ سید علي خامنہ اي


متعلقہ تحریریں:

 چراغ صراط