• صارفین کی تعداد :
  • 1739
  • 12/15/2011
  • تاريخ :

بندہ  کا خدا سے تعلق اور اس کے وجود ميں خدائي نشانياں (دوسرا حصّہ)

الله

خدا پر ايمان رکھنے والے ايک سليم الفطرت بندۂ مۆمن کا طرزِ زندگي تو بس يہ ہونا چاہيے کہ وہ ہر آن و لمحہ اپنے پرودگار کا شکرگزار، ہميشہ اُس کا تابعدار، اُس سے ٹوٹ کر محبت کرنے والا، اُس سے بے انتہا ڈرنے والا، اُس کي رحمت و عنايت کا متمني، اس کے احکام و ہدايات کا پابند، اس کے بندوں پر شفيق و مہربان، اپنا جان و مال اور اوقات و اسباب اپنے پرودگار اور اس کے دين کي راہ ميں بے دريغ لٹانے والا اور دنيا کي ذمہ دارياں اور معاملات نبھانے کے ساتھ ساتھ آخرت ميں سرخروئي اور اپنے پرودگار کے رضا و قرب کو حاصل کرنے کي کوشش کرنے والا ہو-

ايسا شخص اپني تمام حاجتيں اپنے پرودگار ہي کے سامنے پيش کرتا ہے - اپنے مسائل ميں اسي سے مدد طلب کرتا ہے - مشکل اوقات اور سخت لمحات ميں اسے ہي ياد کرتا، پکارتا اور اپنا سہارا بناتا ہے - قرآن و سنت کي تعليمات، پيغمبروں کي سيرتيں اور انکے اولين پيروکاروں کي روشن زندگياں ہميں مۆمنانہ زندگي کي يہي تصوير دکھاتي اور اسي بات کا سبق ديتي ہيں -

اس سلسلے ميں سب سے اہم بات يہ ہے کہ بندے کا خدا سے تعلق ايک زندہ اور شعوري تعلق ہو- وہ نفسياتي اور حسياتي طور پر اُس سے مربوط ہوجائے - پوري شعوري بيداري اور دل و دماغ کي مکمل حاضري کے ساتھ اُسے ياد کرے ، اُس کا ذکر کرے اور اُس کي عبادت بجالائے - خدا سے اس کا تعلق اور اس تعلق کے اظہار ميں انجام دي جانے والي عبادات اور سرگرمياں محض بے روح رسوم بن کر نہ رہ جائيں - بلکہ بندہ جب اپنے پرودگار کو ياد کرے اور اُس کي عبادت ميں مشغول ہو تو اس کے دل ميں اپنے پرودگار کے ليے شوق و ذوق، چاہت و الفت، اشتياق و محبت اور فدائيت و جانثاري کا ولولہ اور طوفان موجزن ہو- زندگي کي مختلف کروٹوں ميں رہ رہ کر اسے اپنے مالک کي عنايتوں ، مہربانيوں اور رحمتوں کا خيال آتا رہے اور وہ اندر ہي اندر اُس کے ليے شکر و احسان مندي کے جذبات سے لبريز ہوجائے - وہ اُس قرآني بيان کي زندہ تصوير بن جائے کہ : خدا کے بندے وہ ہيں جو اس کي نشانيوں پر غور کرتے ہيں اور اٹھتے بيٹھتے اور اپنے بستر پر ليٹے اور پہلو بدلتے ہوئے اسے ياد کرتے رہتے ہيں - اُس کي زندگي کا مشن بس يہ ہو کہ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کي آگ سے بچا کر خدا کي رضا و رحمت کے مقام جنت ميں جگہ حاصل کر لے - وہ دنيا ميں ايک اعليٰ اخلاقي شخصيت اور خدا کے دين کا داعي و علمبردار بن کر جيے اور دنيا ميں رہتے ہوئے آخرت کي دنيا کا باسي بن جائے -

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

اللہ تعالي کے ديدار کے بارے ميں بعض مسلمانوں کا عقيدہ ( حصّہ دوّم )