متعلقه تحریریں
  • صارفین کی تعداد :
  • 1659
  • 2/8/2011
  • تاريخ :

امامت کے عام معنی (حصّہ دهم)

بسم الله الرحمن الرحیم

چنانچہ یہ نظریہ نقصان دہ نھیں هوتا (جبکہ قرآنی آیات او راحادیث نبوی کے ذریعہ اسلامی اصول ثابت کرنے کے بعد اور فطرت انسانی اور علمی دلائل نیز اجماع کے قیام کے بعد) کہ اس کو کوئی چھوڑنے والا چھوڑدے یا اس کو برے القاب سے یاد کرے یا اپنی مرضی سے اس پر کوئی بھی نام منطبق کرے۔

اسی طرح یہ بات بھی امامت کے لئے نقصان دہ نھیں ھے کہ اس پر ”ٹیوقراطی“         "Theocratic" کا نام دیا جائے جیسا کہ بعض مولفین نے امامت پر یہ نام منطبق کیا ھے۔

کیونکہ اگر اس سے مراد ”دینی حکومت“ هو تو اس میں کوئی حرج بھی نھیں ھے بلکہ صحیح معنی بھی یھی ھیں، اور اگر اس سے دین کے نام پر لوگوں پر حکومت کرنا مراد هو تویہ قیاس ھے اور نظریہ امامت کے برخلاف ھے۔

اسی وجہ سے ڈاکٹر” مجید خدوری“ نے اس نظریہ کو ردّ کیا اور امامت پر یہ نام منطبق نھیں کیا کیونکہ یہ واقع پر صادق نھیں ھے بلکہ ایک دوسرا نام ”نوموقراطی“ رکھا یعنی وہ حکومت جس میں قانون کی حکومت اور قانون کو فوقیت حاصل هو، چنانچہ یہ وہ حقیقت ھے کہ جس میں شک کرنے والوں اور انکار کرنے والوں کے لئے شک اور انکار کی کوئی گنجائش باقی نھیں رہتی۔

اسی طرح امامت کو”ڈکٹیٹری“ "Dictaorship" کا نام دینے میں بھی کوئی حرج نھیں ھے جیسا کہ بعض مولفین نے ایسا کھا بھی ھے۔

کیونکہ ”ڈکٹیٹری“ میں خاص فرد یا خاص افراد کی حکومت هوتی ھے گویا وہ حکومت کے مالک هوتے ھیں اور قانون ان کے ھاتھوں میں ایک کھلونا هوتا ھے اور یہ ”ڈکٹیٹری“ واقعاً اسلامی حکومت کے برخلاف ھے کیونکہ اسلامی حکومت میں تو صرف قانون کی حکومت هوتی ھے اور اس میں قانون کے علاوہ کچھ بھی نھیں هوتا۔

اور یہ بات بھی مسلم ھے کہ قانون کی حکومت جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام نے اپنے زمانہ میں (چاھے وہ جنگ کا زمانہ هو یا غیر جنگ کا) قانونی حکومت کو بروئے کار لائے ھیںچنانچہ حضرت علی علیہ السلام کی حکومت ”ڈکٹیٹری“سے بالکل مخالف تھی۔

اسی طریقہ سے امامت پر ”طبقاتی حکومت“ (خاص طبقہ کی حکومت) کا نام دینے میں بھی کوئی حرج نھیں ھے جیسا کہ بعض لوگوں نے اس نظریہ کو پیش کیا ھے۔

کیونکہ کسی خاص طبقہ کی حکومت کامطلب یہ ھے کہ وہ طبقہ تشریعات کو مسخر کر لے اور تمام نظام سے اپنے ذاتی مفاد کو حاصل کرتا رھے، چنانچہ اس طرح کی حکومت سے بھی اسلام کا کوئی سروکار نھیں ۔

کیونکہ قانون کی حکومت میںکسی کے لئے کوئی نرمی کا خانہ نھیں هوتا (یھاں تک کہ خود امام کے لئے) یعنی امام کو بھی یہ حق نھیں هوتا کہ وہ احکام میں تبدیلی کرے کہ امامت اور طبقہ کے تمام افراد کے درمیان قطع تعلق کرے۔

اسی طرح امامت کو ”غیرڈیموکریٹی“ کا نام دینے میں بھی کوئی حرج نھیں ھے کیونکہ ”ڈیموکریٹی“ میں اھمیت اور بنیاد کسی خاص شعبہ کی حکومت هوتی ھے اور شعبہ کی حکومت کا مصدر بھی دین هوتا ھے جو حکومت کی اصل اور بنیاد ھے۔

اور چونکہ خداوندعالم مالک الملک ھے جو چاھے کرے جو چاھے نہ کرے لہٰذا اس کے لئے یہ اعتقاد رکھنا ضروری ھے کہ کائنات کے ھر نظام میں اس کا حکم اور اس کا فیصلہ آخری فیصلہ ھے، یعنی ھر حال میں اس کی اطاعت کرنا ضروری ھے۔

اور چونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مالک الملک کے نمائندے ھیں اور اسی کی طرف سے بولتے ھیں اور اس کے امین ھیں لہٰذا ان پر امام کو منصوب اور معین کرنا ضروری ھے اور یہ کام خدا کی مرضی سے هونا چاہئے، چنانچہ یھی بات سیاسی نظریہ سے بھی ھم آہنگ ھے کہ انتخاب میں مصدر حکومت سے مشورہ هونا چاہئے۔

بشکریہ صادقین ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں:

امامت کے عام معنی

امامت کے عام معنی ( دوسرا حصّہ)

امامت کے عام معنی ( تیسرا حصّہ)

امامت کے عام معنی (  حصّہ چهارم)

امامت کے عام معنی ( حصّہ پنجم)

امامت کے عام معنی (حصّہ ششم)