• صارفین کی تعداد :
  • 3092
  • 2/8/2011
  • تاريخ :

کرہ ارض کا مرکز ( تیسرا حصّہ )

کرہ ارض

بعدازاں 20 صدی کی آخری دہائی میں زمین اور زمین کی تہوں کی جغرافیائی خصوصیات کو جاننے اور نقشہ نویسی کی غرض سے حاصل کی گئیں سیٹلائٹ تصاویر سے بھی اس تحقیق کوتقویت ملتی ہے کہ مکہ زمین کے مرکز میں واقع ہے۔ سائنسی طور پریہ امر ثابت شدہ ہے کہ زمین کی پلیٹیں (Tectonics Plates) اپنی لمبی جغرافیائی عمر کے وقت سے باقاعدگی کے ساتھ عربین پلیٹ کے گرد گھوم رہی ہیں۔ یہ پلیٹیں باقاعدگی کے ساتھ عربین پلیٹ کی طرف اس طر ح مرتکز ہو رہی ہیں کہ گویا یہ ان کا مرکز ہدف ہے۔ اس سائنسی تحقیق کا مقصد ہرگز یہ معلوم کرنا نہیں تھا کہ زمین کا مرکز مکہ ہے یا نہیں بلکہ کچھ اور مقاصد تھے۔ تاہم اس کے باوجود یہ تحقیق مغرب کے کئی سائنسی میگزینوں میں شائع ہوئی مگر اس طور پر کہ اس سے کوئی نتیجہ اخذ نہ کیا جا سکے۔ سید ڈاکٹر عبدالباسط مصر کے نیشنل ریسرچ سنٹر کے ممتاز رکن ہیں۔ انہوں نے 16 جنوری 2005 میں سعودی عرب میں المجد ٹی وی کو انٹرویو دیا تھا۔ اس میں مکہ المکرمہ کے متعلق کئی حیرت انگیز سائنسی انکشافات کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی بنیادوں پر مکہ دنیا کا مرکز اس طرح ثابت ہوتا ہے کہ جب نیل آرم اسٹرانگ زمین سے اوپر خلا کی طرف جا رہے تھے تو انہوں نے زمین کی تصویریں کھینچیں۔ انہوں نے دیکھا کہ زمین خلا میں معلق ایک کالا کرّہ ہے۔ نیل آرم سٹرانگ نے اپنے آپ سے سوال کیا کہ اسے کس نے لٹکایا ہے؟ پھر خود ہی جواب دیا کہ ! اسے خدا نے ہی معلق کرکے تھاما ہوا ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے مشاہدہ کیا کہ زمین کے کسی خاص مقام سے کچھ خاص قسم کی شعاعیں نکل رہی ہیں جو کم طول موج کی تھیں۔ انہوں نے اس چیزکو معلوم کرنے کے لیے اپنے کیمروں کو اس مقام پر فوکس کرنا شروع کیا کہ جہاں سے یہ شعاعیں نکل رہی تھیں۔ آخرکار وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوئے اور انہوں نے یہ معلوم کرلیا کہ وہ مقام کہ جہاں سے شعاعیں خارج ہو رہی ہیں وہ مکہ ہے۔ بلکہ بالکل اگر صحیح طور پر کہا جائے تو وہ کعبہ ہے۔ جب نیل آرم اسٹرانگ نے یہ منظر دیکھا تو اس کے منہ سے نکلا۔ اوہ! میرے خدا! جب وہ مریخ کے قریب پہنچے تو دوبارہ انہوں نے زمین کی تصویریں کھینچیں تو انہیں معلوم ہوا کہ مکہ سے نکلنے والی یہ شعاعیں مسلسل آگے جا رہی تھیں۔ ناسا نے یہ تمام معلومات اپنی ویب سائٹ پر پیش کردی تھیں مگر صرف 21 دن کے بعد ان کو ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا تھا۔ شاید اس لیے کہ یہ معلومات بڑی اہم اور حساس تھیں۔

ڈاکٹر عبدالباسط نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ یہ شعاعیں جو کعبہ سے خارج ہورہی ہیں لامحدود ہیں۔ زیادہ طول موج یا کم طول موج والی شعاعوں کی خصوصیات سے بالکل برعکس، میرے خیال میں اس کی وجہ فقط یہ ہے کہ ان کا منبع اور مآخد زمین کا کعبہ ہے جو آسمانی کعبہ سے وابستہ ہے اورمجھے یقین ہے کہ یہ شعائیں زمینی کعبة اللہ سے بیت المعمور (آسمانی کعبة اللہ) تک جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کعبہ زمین کے اس مقام پر ہے کہ جہاں زمینی مقناطیسی قوتوں کا اثر صفر ہے۔ یہ زمینی مقناطیس کے شمالی اور جنوبی قطبوں کے بالکل درمیان میں ہے ، اگریہاں قطب نما رکھ دیا جائے تو اس کی سوئی حرکت نہیں کرے گی۔ اس لیے کہ اس مقام پر شمالی قطب اور جنوبی قطب کی کششیں ایک دوسرے کے اثر کو زائل کر دیتی ہیں۔ چناچہ یہی وجہ ہے کہ مکہ المکرمہ اس زمینی مقناطیسی قوت کے اثر سے باہر ہے اور مکہ کے رہنے والوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا، نتیجتاً جو کوئی مکہ کی طرف سفر کرتا ہے یا اس میں رہتا ہے وہ صحت مند اور لمبی عمر پاتا ہے۔

جاری ہے

بشکریہ :  التنزیل ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں:

فیس بک کی مقبولیت ہیکرز کے لیے فائدہ مند ہے

خلاء سے آسمانی بجلی کی نشاندہی کا منصوبہ

زمین جیسی کھربوں دنیائیں

خوراک کو محفوظ کرنے کے طریقے

خوراک کو محفوظ کرنا