• صارفین کی تعداد :
  • 2088
  • 11/8/2010
  • تاريخ :

انسان اورتوحید تک رسائی ( حصّہ ہفتم )

الله

اگرچہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس لفظ کے مفہوم میں قرآن کی اصطلاح یہی ہے لیکن مجھے اس وقت یہ معلوم نہیں کہ یہ اصطلاح خاص قرآن کی اصطلاح ہے اور قرآن نے تخلیق کے عمل میں ایک غیر معمولی طور پر نادر حقیقت کی تفہیم کے لئے اس اصطلاح کا استعمال کر کے لفظ کے اصل مفہوم کو اجاگر کیا ہے یا قرآن سے پہلے بھی یہ اصطلاح رائج تھی‘ یعنی طبیعی قوتوں کی فعالیت۔ فاعلیت تسخیری کی نوع سے ہے نہ کہ فاعلیت جبری کی نوع سے اور نہ ہی انہیں اپنے اوپر چھوڑ دیا گیا ہے۔

یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ لغت کی بعض کتابوں مثلاً المنجد نے تسخیر کو جو بلا اجرت ذمہ داری سونپنے کے معنوں میں لیا ہے وہ کتنا ادھورا ہے۔ اہل لغت نے پہلے تو اس لفظ میں زبردستی اکراہ و اجبار کا معنی داخل کر دیا ہے جب کہ قرآن نے اس کے مفہوم میں اکراہ و اجبار کو زبردستی داخل کئے بغیر اسے تکوینی رابطے کے سلسلے میں استعمال کیا ہے۔

زیربحث آیت سماجی زندگی میں انسانوں کے اس تکوینی رابطے کو بیان کرتی ہے کہ یہ "تمام لوگوں کے ساتھ عام لوگوں کا تسخیری" رابطہ ہے اور کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کے اجتماعی فلسفے کو بیان کرنے کے اعتبار سے یہ اہم ترین آیات ہیں۔ بیضاوی نے اپنی معروف تفسیر اور ان کی پیروی میں "علامہ فیض" نے تفسیر صافی میں کتنی خوبصورت اور اعلیٰ تفسیر کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

لیتخذ بعضھم بععضا سخریا

کا معنی یہ ہے کہ دوسرے سے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے استفادہ کریں تاکہ اس وسیلے سے ایک دوسرے کے درمیان محبت و الفت پیدا ہو‘ اور دنیا میں نظم و ضبط پیدا ہو جائے۔ حدیث میں بھی آیا ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ سب کو ایک دوسرے کے لئے ضرورت مند پیدا کیا ہے۔

تسخیری رابطے کی صورت یہ ہے کہ جہاں قدرتی ضروریات نے انسانوں کو ایک دوسرے سے ملا دیا ہے وہاں جبری رابطے کے برخلاف معاشرہ ایک آزادانہ مقابلے سے خارج نہیں ہو گا۔ حیوانات کی اجتماعی زندگی جبری رابطے کی بنیاد پر ہے لہٰذا انسان کا اجتماعی ہونا شہد کی مکھی یا چیونٹی اجتماعی ہونے سے مختلف ہے۔ ان کی زندگی میں جبری قوانین لاگو ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی مقابلے اور کشمکش کا میدان نہیں ہے اسی طرح اوپر اور نیچے جانے کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔ انسان جہاں اجتماعی ہے وہاں ایک طرح کی حریت و آزادی کا حامل بھی ہے۔

انسانی معاشرہ ترقی و پیش رفت اور کمال و ارتقاء کے حصول کے لئے ایک مقابلے اور رقابت کا میدان ہے‘ جو قیود اور پابندیاں راہ کمال میں انفرادی آزادی کو محدود کر دیتی ہیں وہ انسانی صلاحیتوں کو پھلنے پھولنے سے روک دیتی ہیں۔

نظریہ مادیت کا ماڈل انسان چونکہ روحانی و باطنی آزادی تک نہیں پہنچ سکا بلکہ صرف بیرونی روابط اور تعلقات کے ساتھ اس کا رشتہ جڑا ہے‘ لہٰذا وہ ایسے بے بال و پر پرندے کی مانند ہو گیا ہے جس سے ہر قسم کی پابندی اٹھا دی گئی ہے لیکن وہ اپنے پر نہ ہونے کی بناء پر اڑنے کے قابل نہیں رہا لیکن نظریہ تصوریت کا ماڈل انسان چونکہ اندرونی طور پر آزاد لیکن بیرونی طور پر بندھا ہوا ہے لہٰذا وہ ایسے پرندے کی مانند ہے جس کے پر بھی سالم ہیں اور اس کے پیروں سے سنگین بوجھ بھی ہٹا دیا گیا ہے۔

مجموعی طور پر ابھی تک جو کچھ کہا گیا ہے اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ توحید عملی (چاہے انفرادی توحید عملی ہو یا اجتماعی) سے مراد توحید پرستی کی راہ میں فرد کا وحدت و یگانگت حاصل کرنا‘ ہر قسم کی قلبی پرستش مثلاً ہوا پرستی" دولت پرستی‘ مقام پرستی وغیرہ کی نفی کرنا اور طاغوتی امتیازی رویوں اور ناانصافیوں کی نفی کے ذریعے توحید پرستی کی راہ میں معاشرے کا وحدت و یگانگت کو پانا ہے۔ جب تک فرد اور معاشرہ وحدت کو حاصل نہیں کر لیتا سعادت تک نہیں پہنچ سکتا اور صرف حق پرستی ہی کے زیرسایہ وحدت و یگانگت تک پہنچا جا سکتا ہے۔ قرآن کریم سورئہ مبارکہ زمر کی انتیسویں آیت میں نظام شرک میں انسانی شخصیت کے افتراق و انتشار‘ اس کی سرگردانی اور بے راہ روی اور اس کے برعکس توحیدی نظام میں اس کے وحدت و یگانگت تک پہنچنے‘ ایک سمت کو انتخاب کرنے اور کمال و ارتقاء کے راستے پر قدم رکھنے کو یوں بیان کرتا ہے:

ضرب اللّٰہ مثلا رجلا فیہ شرکاء متشاکسون و رجلا سلما الرجل ھل یستویان مثلا

"خدا مثال لاتا ہے ایک ایسے شخص کی جو کئی بدچلن اور نالائق افراد کا بندہ بنا ہوا ہے (کہ جس میں سے ہر ایک نفرت و غصے اور غلط طریقے سے اسے کسی طرف چلنے کا حکم دیتا ہے) جب کہ دوسرا شخص صرف ایک فرد کے سامنے سر جھکاتا ہے۔ کیا یہ دونوں ایک جیسے ہیں؟"

یہاں علامہ اقبال کا یہ معروف شعر یاد آتا ہے:

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

نظام شرک میں انسان ہر لمحہ کسی ایک طرف کھنچا چلا جاتا ہے گویا سمندر کی لہروں میں ایک تنکے کی مانند جسے موجیں ہر لمحے کبھی ادھر کو لے جاتی ہیں کبھی ادھر کو لیکن نظام توحید ایک ایسے بحری جہاز کی مانند ہے جو رہنمائی کے پورے نظام سے آراستہ ہے اور ایک خیرخواہ کے فرمان پر منظم اور ہم آہنگ انداز میں حرکت کر رہا ہے۔

بشکریہ اسلام ان اردو ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں:

توحید صفاتی

 توحید افعالی

 خداشناسی (پہلا سبق)

خداشناسی (دوسرا سبق)

خداشناسی (تیسرا سبق)

خداشناسی (چوتھاسبق)

خداشناسی (پانچواں سبق)

خدا شناسی (چھٹا سبق)

قادر متعال کا وجود

عقیدۂ  توحید