• صارفین کی تعداد :
  • 4223
  • 10/23/2010
  • تاريخ :

قرآن اور علم

بسم الله الرحمن الرحیم

قالَ رَبّی يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّماء ِ وَ الأَرْضِ وَ هُوَ السَّميعُ الْعَليمُ.

"(انھوں نے) کہا: جو بات آسمان اور زمین میں ہے، میرا پروردگار اُسے جانتا ہے اور وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔"

قرآن کریم (سورہ ٔانبیا: ۲۱، آیت۴)

عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعالِ.

"وہ غیب و شہود کا جاننے والا ہے، بزرگ اور بلند ہے۔"

قرآن کریم (سورۂ الرعد:۱۳، آیت۹)

قرآنِ کریم ہمیں بتاتا ہے کہ خداوندِعالم کا علم لامتناہی ہے۔ ایک چھوٹے ذرّے سے لے کر کہکشاؤں تک زمین و آسمان کو احاطہ کیے ہوئے۔

عالِمِ الْغَيْبِ لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ فِی السَّماواتِ وَ لا فِی الْأَرْضِ وَ لا أَصْغَرُ مِن ذَلِكَ وَ لا أَكْبَرُ إِلّا فِی كِتابٍ مُبيـنٍ.

"(وہ خداوند) غیب کا جاننے والا (ہے)، زمین و آسمان کا کوئی ذرّہ بھی اُس سے پوشیدہ نہیں اور نہ اُس (ذرّے) سے چھوٹی اور نہ بڑی کوئی چیز (اُس سے پوشیدہ ہے)، مگر یہ کہ وہ واضح کتاب میں موجود ہے۔" قرآنِ کریم (سورۂ سبا:۳۴، آیت۳)

خداوند سورۂ بقرہ کی آیات ۲۹ تا ۳۳ میں فرماتا ہے کہ علمِ الٰہی انسان میں پوشیدہ ہوتا ہے اور خداوند نے آدم کو رُوے زمین پر اپنا خلیفہ بنایا اور اُسے علم الاسماء سکھا دیا۔

هو الذي خلق لكم ما في الارض جميعا ثم استوى الى السماء فسواهن سبع سماوات و هو بكل شي‏ء عليم (29)

و اذ قال ربك للملائكة اني جاعل في الارض خليفة قالوا ا تجعل فيها من يفسد فيها و يسفك الدماء و نحن نسبح بحمدك و نقدس لك قال اني اعلم ما لا تعلمون (30)

و علم آدم الاسماء كلها ثم عرضهم على الملائكة فقال انبئوني باسماء هؤلاء ان كنتم صادقين (31)

قالوا سبحانك لا علم لنا الا ما علمتنا انك انت العليم الحكيم (32)

قال يا آدم انبئهم باسمائهم فلما انباهم باسمائهم قال ا لم اقل لكم اني اعلم غيب السماوات و الارض و اعلم ما تبدون و ما كنتم تكتمون (33).

"وہ، وہ پروردگار ہے جس نے رُوے زمین پر جو کچھ ہے، اُسے تمھارے لیے بنایا اور اُس کے بعد آسمان کی طرف توجّہ دی اور اُسے سات آسمانوں کی صورت بلند کیا اور وہی ہے ہر چیز کا جاننے والا۔

اور جس وقت تمھارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین پر ایک خلیفہ بنانے والا ہوں تو اُنھوں نے کہا: کیا تُو زمین پر کسی ایسے کو خلیفہ بنائے گا جو زمین میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گا۔ حالاں کہ ہم تیری تسبیح و تقدیس بیان کرتے ہیں۔

ارشاد ہوا: جو کچھ میں جانتا ہوں، وہ تم نہیں جانتے۔ اور آدم کو سارے نام سکھا دیے۔ اُس کے بعد فرشتوں سے کہا: اگر تم سچّے ہو تو اِن ناموں کے بارے میں مجھے خبر دو۔

اُنھوں نے کہا: تُو منزّہ ہے۔ ہمیں کوئی علم نہیں، مگر وہی جو تُو نے ہمیں سکھایا ہے۔ بے شک تُو جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

کہا: اے آدم! اُنھیں اُن ناموں کے بارے میں خبر دو، اور جس وقت آدم نے اُنھیں اُن سب کے ناموں کی خبر دی تو پروردگار نے کہا: کیا میں تم سے نہیں کہتا تھا کہ جو کچھ زمین و آسمان کا غیب ہے، میں اُسے جانتا ہوں۔اور میں وہ کچھ بھی جانتا ہوں، جسے تم علانیہ اور چھپا کر بجا لاتے ہو۔"

قرآنِ کریم میں بہت ساری آیات اِس بات کو نمایاں کرتی ہیں کہ خداوند نے کس طرح اپنے بندوں کی ہدایت کی ہے اور کس طرح علمِ الٰہی کو اُن پر آشکار کرتا ہے۔ یہ آیات بنیادی طور پر بیّنہ اور نشانیاں ہیں جو اسرارِ ہستی کو نمایاں کرتی ہیں۔ قرآنِ کریم کے پوشیدہ علوم و اَسرار اُن لوگوں پر واضح ہوجاتے ہیں جن کے دل نورِ علم سے روشن ہوئے ہیں۔ خداوند قرآنِ کریم کی سورۂ ۴۲، آیات ۵۱ تا ۵۲ میں فرماتا ہے:

و ما كان لبشر ان يكلمه الله الا وحيا او من وراء حجاب او يرسل رسولا فيوحي باذنه ما يشاء انه علي حكيم (51)

و كذلك اوحينا اليك روحا من امرنا ما كنت تدري ما الكتاب و لا الايمان و لكن جعلناه نورا نهدي به من نشاء من عبادنا و انك لتهدي الى صراط مستقيم (52)

""اور کسی بشر کے لیے ممکن نہیں کہ خدا اُس سے کلام کرے، مگر وحی سے (معنوی الہام کے ذریعے سے) یا پردے کے پیچھے سے یا کسی رسول(پیام بر) کو بھیجتا ہے، پس وہ وحی کرتا ہے اُس (خدا ) کے اذن (اجازت) سے جو کچھ خدا چاہتا ہے۔ بے شک وہ عالی رتبہ اور حکمت والا ہے۔ اور اِسی طرح ہم نے اپنے امر میں سے ایک روح کے ذریعے تمھاری طرف وحی بھیجی۔ تمھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ کتاب اور ایمان کیا ہیں۔ لیکن ہم نے اِسے ایک نور قرار دے دیا ہے جس کے ذریعے ہم اپنے بندوں میں سے جسے بھی چاہیں، ہدایت کریں۔ بے شک، آپ سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتے ہیں۔ اُس اللہ کا راستہ کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے، اُسی کا ہے۔ خبردار ہو جاؤ، تمام امور اُسی کی طرف لوٹتے ہیں۔"

قرآنِ کریم (سورۂ الشوری:۴۲، آیات ۵۱ تا ۵۲)

سارے قرآنِ کریم میں خداوند انسان کو انسان میں پوشیدہ ازلی علم کے انکشاف کی جانب بلاتا ہے، جو اُس کی طبعی وجود کی حدود سے ماورا میں میسّر ہوتا ہے۔

"دین کی حقیقت کا انکشاف شہود و یقین پر مبنی ہے، اور یقین اُسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب وہ دریافتِ علم کی بنیادوں پر قائم ہو، جو خداوند کی طرف سے ایک عطیہ ہے، کسی اَور کی طرف سے نہیں۔ علم ہی ہے جو یقین پر منتہی ہوتا ہے۔"1 حقیقت کا مشاہدہ یقین اور سکون کو زندگی کی سوغات بنا دیتا ہے۔ عرفان کے مکتب میں "حقیقت دین" کا انکشاف اپنے وجود کی گہرائی میں نورِ الٰہی کی دریافت کے ذریعے مورد نظر ہوتا ہے۔

https://www.mto.org