• صارفین کی تعداد :
  • 2149
  • 10/18/2010
  • تاريخ :

انسان اور توحید تک رسائی ( حصّہ سوّم )

الله

عینیت (Realism)

اس نظریے کے مطابق جو چیز انسان کو انفرادی اور اجتماعی اعتبار سے تقسیم کرتی ہے اور انسان کو جدا جدا کرنے کا بنیادی عامل ہے وہ اشیاء کے ساتھ انسان کا تعلق ہے۔ انسان کی اسارت و مصیبت اس کے مملوک ہونے کا نتیجہ ہے نہ کہ اس کی ملکیت کا۔ اسی لئے یہ نظریہ‘ فکری انقلاب‘ ایمان‘ نظریہ حیات اور روحانی آزادی کے بنیادی کردار کو تعلیم و تربیت کا عامل قرار دیتا ہے‘ لیکن اس نظریے کی رو سے انسان جس طرح محض مادہ نہیں ہے‘ محض روح بھی نہیں ہے‘ معاش اور معاد ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہیں۔ جسم و روح دونوں ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتے ہیں- جہاں توحید در عبادت اور حق پرستی کے زیر سایہ روحانی انتشار و افتراق کے عوامل سے مقابلہ کرنا ضروری ہے وہاں امتیازی سلوک‘ ناانصافی اور محرومیوں کے ساتھ بھی شدید جنگ کی ضرورت ہے۔

اسلام کی منطق یہی ہے۔ جونہی اسلام کا ظہور ہوا‘ آن واحد میں دو قسم کی تبدیلیاں اور تحریکیں وجود میں آئیں۔

اسلام نے یہ نہیں کہا کہ اگر امتیازی سلوک‘ بے انصافی‘ ملکیتوں کو ختم کر دیا جائے تو خود بخود ہر چیز درست ہو جائے گی۔

 اسلام نے یہ نہیں کہا کہ اپنے باطن کی اصلاح کر لو اور ظاہر سے سروکار نہ رکھو‘ اور یہ بھی نہیں کہا کہ اگر اخلاق درست ہو گیا تو معاشرے کی خود بخود اصلاح ہو جائے گی۔ اسلام نے بیک وقت اللہ تعالیٰ پر ایمان اور توحید پرستی کے زیرسایہ روحانی و باطنی توحید کی ندا بھی دی ہے اور اجتماعی و معاشرتی اونچ نیچ کے ساتھ جہاد و مبارزت کے سائے میں اجتماعی توحید کی آواز بھی بلند کی۔ قرآن کریم کی یہ آیت جو توحید انسانی کے آسمان پر ستارہ بن کر چمک رہی ہے‘ وہی آیت ہے جسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سربراہان مملکت کے نام اپنے دعوت ناموں پر درج کیا تھا اور جو اسلام کی حقیقت بینی اور ہمہ گیر جہات کو بیان کرتی ہے۔

قل یا اھل الکتاب تعالوا الی کلمة سواء بیننا و بینکم ان لا نعبدا لا اللّٰہ ولا نشرک بہ شیاء (سورئہ آل عمران)

"ایک ہی بات‘ ایک ہی نظریے اور ایک ہی حقیقت کی طرف آؤ جو ہمارے اور آپ سب کے لئے یکساں ہے اور اس کی نسبت ہم سب کے ساتھ مساوی ہے‘ نہ تو ہمارے لئے کوئی خاص امتیاز ہے اور نہ ہی آپ کے لئے وہ یہ ہے کہ صرف خدائے واحد کی عبادت کریں اور اس کے سوا کسی اور کی پرستش نہ کریں۔"

یہاں تک آیت کریمہ میں ایمان واحد‘ جہت واحد‘ قبلہ واحد ایک ہی آئیڈیل اور روحانی و معنوی آزادی تک پہنچنے کے ذرائع انسانوں میں وحدت و یگانگت پیدا کرنے کو موضوع گفتگو بنایا گیا ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے:

ولا یتخذ بعضنا بعضاً اربابا من دون اللّٰہ (سورئہ آل عمران)

"ہم میں سے بعض انسانوں کو بعض دوسروں کو اپنا رب نہیں بنانا چاہئے (جب کہ ہم سب کا رب خدا ہے) اور ارباب و بندہ میں تقسیم نہ ہوں۔"

بشکریہ اسلام ان اردو ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں:

توحید صفاتی

 توحید افعالی

 خداشناسی (پہلا سبق)

خداشناسی (دوسرا سبق)

خداشناسی (تیسرا سبق)

خداشناسی (چوتھاسبق)

خداشناسی (پانچواں سبق)

خدا شناسی (چھٹا سبق)

قادر متعال کا وجود

عقیدۂ  توحید