• صارفین کی تعداد :
  • 3187
  • 6/15/2010
  • تاريخ :

انس با قرآن

قرآن کریم

اس پہلی رات سے جب قرآن رسول اكرم (ص) پر نازل ھوا معنویت كی پیاسی سرزمین "حجاز" رحمت الھی كا مركز قرارپائی اور اس چشمہ فیض الھی سے ارتباط كے راستے ھموار ھوگئے اور قرآن زمین و آسمان كو ملانے كی كڑی ھو گیا۔ كلام الھی سے انس اور چوبیس گھنٹے اس كی آیتوں كی تلاوت كی سرگوشی اس طرح سے تھی كہ رسول اسلام (ص) گھروں كے افراد كوان كی آواز قرآن كے ذریعہ پہچانتے ت ہے۔ 1 كچھ لوگ قرأت اور كچھ حفظ اور كچھ افراد آیات الھی میں غور و خوض كیا كرتے تهے اور اسلامی معاشرہ بھی تعلیمات قرآن پرعمل پیرا تھا۔

متن:

اس كے باجود كیوں قرآن یہ كھتا ہے كہ رسول اسلام (ص) قیامت كے دن قرآن كی مجھوریت كا شكوہ كریں گے؟ كیا آنحضرت (ص) اپنے زمانے كی امت سے نالاں  ہیں یا اس دور كے بعد والے مسلمانوں سے؟ اگر اس زمانہ میں صحابہ اور رسول اسلام (ص) كے درمیان ارتباط كو مدنظر ركھا جائے تو ظاھراً ایسا لگتا ہے كہ یہ شكایت رسول كے بعد والی امت سے مربوط  ہے۔

آیٔہ شریفہ  (رب ان قومی اتخذوا ھذ القرآن مھجورا) 2 كے ذیل میں ایسی كوئی معتبر روایت ن ہیں پائی جاتی جس كے ذریعہ صحیح فیصلہ ھو سكے لیكن مزكورہ باتوں كو مد نظر ركھتے ھوئے بھت محتمل  ہے كہ یہ شكایت پیغمبر اسلام (ص) كے بعد آنے والی امتوں سے مربوط  ہے۔

مقاله حاضر كا ھدف یہ  ہے كہ قرآن كے سلسلہ میں موجود روایتوں كي رتبہ بندی كر سكے تاكہ قرآن مھجوریت سے نكل آئے البتہ یہ رتبہ بندی پیغمبر (ص) اور معصومین (ع) كےتمام نورانی اقوال میں پائی جاتی  ہے۔ ھم نے فقط اس رتبہ بندی كو آشكار كیا ہے۔ قرآن سے مربوط روایتوں میں سیر طولی كا ماحصل یہ ھوگا كہ ھركوئی اپنے ظرف كی وسعت اور اپنی قدرت كے برابر قرآن سے بھرہ مند ھو سكے اور ایك مرحلہ كی ناتوانی اسے قبل كے مراحل سے محروم نہ كر دے ۔  جیسے نماز پڑھنے كے سلسلے میں موجود روایتوں سے فقھاء نے ایك قاعدہ اخذ كیا ہے كہ جس قاعدہ كے تحت كوئی شخص ترك نماز كا عذر نہیں ركھتا اور كھا گیا "الصلوة لایترك بحال" نماز كسی حال میں بھی ترك ن ہیں ھونی چاھئیے۔

اسی طرح سے قرآن كے سلسلہ میں بھی اگر ھم چاھتے  ہیں اسے مہجوریت سے خارج كریں تو كوئی شخص كسی بھی حال میں قرآن سے اپنا رابطہ قطع نہ كرے۔ ھاں نماز كے لئے ایك حكم الزامی  ہے لیكن قرآن كے سلسلہ میں كوئی الزام و تكلیف ن ہیں پائی جاتی اگر قرآن سے متعلق روایتوں كو اس طرح رتبہ بندی نہ كریں تو ان كے درمیان سخت تعارض واقع ھوگا۔ مثال كے طور پر بعض ایسی روایتیں  ہیں جو صرف تلاوت كا حكم دیتی  ہیں اور اس بات كی تاكید كرتی  ہیں یھاں تك كہ پیغمبر اسلام (ص) سے مروی  ہے كہ: "اگركوئی قرآن كو غلط پڑ ہے اور اصلاح كرنے پر قادر نہ ھو، تو ایك فرشتہ مامور ھوگا جو اسے صحیح طریقہ سے اوپر لے جائے" 3 یا بعض دوسری روایتوں میں قرآن سننے كے لئے ثواب ذكر كیا گیا  ہے یھاں تك كہ غیرارادی طور پر بھی سننا مستحق اجر و جزا جانا گیا  ہے۔

اس كے مقابل میں پیغمبر (ص) اور آئمہ (ع) سے بھت سی ایسی روایتیں پائی جاتی  ہیں جو اشارہ كرتی  ہیں كہ تدبر اور تفكر كے بغیر قرائت میں كوئی خیر و بركت ن ہیں  ہے یا وہ روایتیں جو صرف قرآن پرعمل پیرا ھونے كے ارزش كی قائل  ہیں۔ یہ تعارض برطرف ھونا چاہئیے اور تعارض برطرف كرنے كاصرف ایك طریقہ یہ  ہے كہ كھا جائے یہ تمام روایتیں اپنے اپنے طبقہ كے مخاطبین سے مربوط  ہیں، بعض فقط قرآن كو گھر میں ركھ سكتے  ہیں حتیٰ كہ قرائت سے بھی عاجز  ہیں بعض فقط اس كی طرف دیكھ سكتے  ہیں، بعض اس میں غور و فكر كرتے  ہیں اور بعض اس پرعمل كرتے  ہیں اور جو ان تمام مراتب كو جمع كرلے " طوبیٰ لہ وحسن مآب " ۔

اس تقسیم بندی كی تائید امام صادق علیہ السلام كی ایك روایت بھی كرتی  ہے آپ (ع) فرماتے  ہیں: " كتاب اللہ علیٰ اربعۃ: العبارة للعوام، الاشارة للخواص، اللطائف للاولیاء والحقائق للانبیاء " ۔ 4

بعض لوگوں كا قرآن سے بھرہ مند ھونا عبارات وظواھر تك  ہے بعض كے لئے وھی ظواھر اشارہ  ہیں معنیٰ خاص كی طرف۔ اولیاء الھی قرآنی آیتوں سے لطائف تك پھنچتے  ہیں اور انبیاء آیات الھی كے بطون اور اپنے اپنے مراتب درك كے پیش نظرحقائق كے اس اعلی مراتب پر پھنچ جاتے  ہیں جھاں دوسرے پھنچنے سے عاجز  ہیں ۔

البتہ اس نكتہ كی طرف توجہ ضروری  ہے كہ شیعہ ائمہ بھی حقیقت قرآن سے آگاہ  ہیں اور عوام جس چیز كو سمجھنے سے عاجز  ہے اس كا علم ركھتے  ہیں۔ یھاں بطون قرآن سے مربوط چند روایت كی طرف اشارہ كریں گے۔ 5 چونكہ قرآن كے لئے بطن كا ثابت كرنا در واقع تاكید  ہے اس بات پركہ اولاً قرآن كے سلسلے میں سب كی سمجھ ایك جيسي ن ہیں  ہے، ثانیاً ظاھر و باطن ایك امر نسبی  ہے ممكن  ہے كوئی چیز كسی شخص كے لئے باطن آیت ھو لیكن دوسرے كے لئے وہ ظاھر ھو یااس كے برعكس اور یہ ایك مھم بحث  ہے۔ 6

حوالہ جات :

1. صحیح بخاری، ج4، ص1547 (ح3991)، صحیح مسلم، ج4، ص1944 (ح2499)

2. سورۂ فرقان، آیہ 30

3. ان الرجل الاعجمی من امتی لیقرا القرآن بعجمیتہ فتعرفہ الملائكہ علی عربیۃ (الكافی، ج2، ص619)

4. بحارالانوار، ج76، ص287 (ح113)وج92، ص20 (ح18)

5. ان للقرآن ظاھراً وباطناً۔ (الكافی، ج4، ص549، من لایحضرہ الفقیہ، ج2، ص486)

6. المیزان، محمد حسین الطباطبائی (رح)، ج3، ص72۔

 

مصنّف : اصغر ھادوی كاشانی

مترجم  : سید محمد جعفر زیدی

 بشکریہ مجتمع جہانی شیعہ شناسی


متعلقہ تحریریں:

قرآن مجید ایک عالمی کتاب ہے

قرآن کے بارے میں  ایک ضروری یاد دہانی