• صارفین کی تعداد :
  • 3014
  • 6/13/2010
  • تاريخ :

 توحید افعالی

بسم الله الرحمن الرحیم

خداشناسی (پہلا سبق)

خداشناسی (دوسرا سبق)

خداشناسی (تیسرا سبق)

خداشناسی (چوتھاسبق)

خداشناسی (پانچواں سبق)

خدا شناسی (چھٹا سبق)

توحید افعالی سے مراد اس چیز کی معرفت اور ادراک ہے کہ کائنات اپنے تمام تر نظاموں، روایات، عقل و اسباب اور معلومات و مسببات کے باوجود اسی کا فعل اور اسی کے ارادے کا نتیجہ ہے جس طرح موجودات عالم اپنی ذات میں مستقل نہیں ہیں اور سب اسی کے ذریعے قائم اور اسی سے وابستہ ہیں اور وہ قرآن کی اصطلاح میں پوری کائنات کے لئے "قیوم" ہے اسی طرح تاثیر اور علت کے اعتبار سے بھی مستقل نہیں ہے لہٰذا خداوند تعالیٰ کا جس طرح اپنی ذات کے لحاظ سے کوئی شریک نہیں ہے اسی طرح اپنی فاعلیت کے اعتبار سے بھی شریک نہیں ہے۔ ہر فاعل اور سبب کی حقیقت تاثیر اور فاعلیت نیز اس کا وجود اسی سے ہے اور اسی پر قائم ہے۔ ہر حالت اور قوت اسی پر قائم ہے:

ماشاء اللّٰہ ولاقوة الابہ، لاحول ولاقوة الا باللّٰہ

انسان جو موجودات میں سے ایک ہے اور خدا کی مخلوق ہے، تمام مخلوقات کی طرح اپنے کام کی علت اور اس میں موثر ہے اور اس سے بالاتر یہ کہ اپنی تقدیر میں بھی موثر ہے لیکن کسی طور پر بھی کوئی موجود بھی مفوض نہیں یعنی کوئی ایسا موجود نہیں، جسے سب کچھ تفویض کر دیا گیا ہو۔

بحول اللّٰہ وقوتہ اقوم واقعد

"اللہ کے حول و قوت سے میں کھڑا ہوتا ہوں اور بیٹھتا ہوں۔"

ایک وجود کو تمام اختیارات سونپ دینا (چاہے وہ انسان ہو یا غیر انسان) فاعلیت اور استقلال کے اعتبار سے خدا کے ساتھ اس وجود کو شریک ٹھہرانے کے مترادف ہونے کے ساتھ ساتھ ذات میں استقلال کو بھی لازم گردانتا ہے جو توحید ذاتی کے بھی منافی ہے، چہ جائیکہ توحید افعالی کے منافی ہو، ایک دعا کے الفاظ یوں ہیں:

الحمدللّٰہ الذی لم یتخذ صاحبة ولا ولد اولم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لہ ولی من الذل و کبرہ تکبیراً (مفاتیح الجنان، دعای افتتاح)

حمد اس خدا کی جس نے ہمسر اور اولاد نہیں اپنائی اور کائنات پر حکومت کرنے میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے اسی طرح کائنات کا نظام سنبھالنے کے اعتبار سے ناتوانی کی بناء پر کوئی اس کا مددگار بھی نہیں ہے اسے اس طرح بزرگ و برتر جانو جس طرح اس کی ذات پاک کے لائق ہو۔

بشکریہ اسلام ان اردو ڈاٹ کام