متعلقه تحریریں
  • صارفین کی تعداد :
  • 3145
  • 10/11/2009
  • تاريخ :

شوہر كا احترام

گلاب

ہر انسان كو اپنى شخصيت سے پيار ہوتا ہے وہ اپنے آپ كو عزيز ركھتا ہے ۔ اس كا دل چاہتا ہے كہ دوسرے بھى اس كى شخصيت كا احترام كريں اور جو اس كى شخصيت كا احترام كرتا ہے وہ اس كا محبوب بن جاتا ہے اور توہين كرنے والوں سے اس كا دل متنفرہوجاتا ہے ۔

خاتوں محترم اپنى ذات سے محبت اور احترام كى خواہش ، ايك فطرى جذبہ ہے ليكن ہر شخص آپ كے شوہر كے دلى جذبات كا احترام كرنے اور ان كى عزت كرنے كے لئے تيار نہيں ۔ گھر سے باہر سينكڑوں افراد اور طرح طرح كے بدتميز لوگوں سے اس كا سابقہ پڑتا رہتا ہے جو اكثر اوقات اس كى توہين كر ديتے ہيں اس كى شخصيت كو مجروح كرديتے ہيں ۔ چونكہ آپ اس كى شريك زندگى اور مونس و غمخوار ہيں اس لئے وہ آپ سے اس بات كى توقع ركھتا ہے كہ كم سے كم گھر ميں آپ اس كا احترام كريں اور اس كى مجروح شخصيت كو سہارا ديں ۔ اس كى عزت افزائي كركے آپ چھوٹى نہيں ہوجائيں گى بلكہ اس كو طاقت و توانائي اور حوصلہ عطا كريں گى ۔ آپ كے چند حوصلہ افزا جملے اس ميں سرگرم عمل رہنے كے لئے ايك نئي روح پھونك ديں گے ۔

خاتون محترم اپنے شوہر كو سلام كيجئے ۔ ہميشہ اس كو ، آپ سے مخاطب كيجئے ۔ گفتگو كے دوران اس كے كلام كو منقطع نہ كيجئے ۔ اس كا احترام كيجئے ۔ اس سے ادب سے بات كيجئے ۔ اس كے اوپر چيخئے چلايئےہيں ۔ اگر كسى محفل ميں ساتھ جا رہى ہيں تو اس كو آگے ركھئے ۔ اس كو نام لے كر نہ پكاريئے بلكہ فيملى نام يا لقب سے مخاطب كيجئے ۔ دوسروں كے سامنے اس كى تعريف و تحسين كيجئے ۔ مہمانوں كے سامنے بھى اس كا احترام كيجئے۔ اور انھيں كے برابر ، بلكہ ان سے زيادہ اس كى خاطر كيجئے ۔ كہيں ايسا نہ ہو كہ مہمانوں كى بزم آپ اپنے شوہر كے وجود كو نظر انداز كرديں اور آپ كى تمام تر توجہ مہمانوں پر مركوز رہے ۔ جب دروازہ كھٹكھٹائے تو كوشش كيجئے كہ آپ خود دروازہ كھوليں اور كشادہ پيشانى اور مسكراہٹ كے ساتھ اس كا استقبال كيجئے ۔ كيا آپ جانتى ہيں كہ آپ كا يہ چھوٹا سا فعل ، آپ كے شوہر كے دل پر كتنا اچھا اثر ڈالے گا ؟ شايد گھر كے باہر اسے گوناگوں مشكلات كا سامنا كرنا پڑا ہو اور وہ شكستہ دل اور پريشان گھر آيا ہو ۔آپ كا مسكراتے لبوں سے استقبال كرنا ، اس كے تھكے ماندے جسم ميں ايك تازہ روح پھونك دے گا اور اس كے دل كو سكون و اطمينان عطا كر دے گا ۔ ممكن ہے خواتين ان باتوں پر تعجب كريں اور كہيں يہ كيسى عجيب و غريب تجويزہے ۔ بيوى شوہر كے خير مقدم كے لئے جائے اور اسے خوش آمديد كہے وہ كوئي غير اور اجنبى تو ہے نہيں كہ اسے اس بات كى احتياج ہو كہ اس كا خير مقدم كيا جائے اور خوش آمديد كہا جائے ۔

آداب كا لحاظ صرف احباب كے درميان ركھنا ، يہ طرز فكر ہمارى غلط  تربيت كا نتيجہ ہے ۔ يہ كون كہتا ہے كہ دوستوں اور عزيزوں كا ادب و احترام كرنا لازم نہيں ہے ۔ كوئي مہمان آپ كے گھر آتاہے آپ اس كا خير مقدم كرتى ہيں ۔ اسے خوش آمديد كہتى ہيں اس كا احترام كرتى ہيں ۔ يہ بالكل صحيح ہے مہمان كا احترام كرنا چاہئے ليكن ذرا انصاف سے كہئے گا ايك شخص جو صبح سے شام تك آپ كے آرام و آسائشے اور ضروريات زندگى مہيا كرنے كى فكر ميں لگا ہوا ہے اور اس كے لئے سينكڑوں طرح كى پريشانيوں اور دشواريوں كا سامنا كرتا ہے اور جب خلوص كے خوان ميں اپنى محنت كى كمائي سجا كر ، گھر كے دروازے تك آنے كى زحمت گوارا كريں اور لبوں پر مسكراہٹ لا كر ايك خيرمقدمى جملے سے اس كا دل شاد كرديں ۔ يہ نہ كہئے كہ ہم آپس ميں ايك دوسرے سے مانوس ہيں اس لئے وہ احترام كى توقع نہيں ركھتا بلكہ دوسروں سے زيادہ وہ آپ سے احترام كا خواہاں ہے ۔ اگر آپ اس كا احترام نہيں كرتيں اور وہ خاموش رہتا ہے تو يہ اس بات كى دليل نہيں كہ وہ آپ سے احترام كى توقع نہيں ركھتا بلكہ آپ كا لحاظ كركے اپنى دلى خواہش كو دبا ديتا ہے ۔

خاتوں عزيز اگر آپ اپنے شوہر كى عزت كريں گى تو وہ بھى آپ كا احترام كرے گا ۔ آپ كے درميان رشتہ الفت و محبت استوار تر اور پيمان زناشوئي پائيدارتر ہوجائے گا ۔ گھر ، زندگى اور اپنے كام ميں اس كى دلچسپى بڑھ جائے گى ۔ اور يقينا يہ چيز آپ كے مفاد ميں ہوگى ۔

 

نام كتاب  ازدواجى زندگے كے اصول يا خاندان كا اخلاق
مصنّف  حجة الاسلام و المسلمين ابراہيم اميني
ترجمہ  محترمہ عندليب زہرا كامون پوري
كتابت  سيد قلبى حسين رضوى كشميري
ناشر  سازمان تبليغات اسلامى روابط بين الملل ۔ تہران
تہيہ و تنظيم  شعبہ اردو۔ سازمان تبليغات اسلامي
تاريخ

 جمادى الثانى سنہ 1410 ھ

 


متعلقہ تحریریں:

""شوہر داري"" يعنى شوہر كى نگہداشت اور ديكھ بھال

اسلام اور حجاب