متعلقه تحریریں
  • مغربي اور مغرب زدہ معاشرے ميں خواتين کي صورتحال
    مغربي اور مغرب زدہ معاشرے ميں خواتين...
    طاغوتي ايام ميں ہماري لڑکيوں کو ’’آئيڈيل لڑکي‘‘اور ’’بہترين مثال‘‘ کے نام سے خاندان اور گھرانوں کے پاکيزہ اور پيار ومحبت سے لبريز ماحول سے باہر کھينچ کر برائيوں کي کيچڑ ميں ڈال ديتے تھے
  • مغربي عورت، مرد کي نفساني خواہشات کي تسکين کا وسيلہ
    مغربي عورت، مرد کي نفساني خواہشات...
    تاريخ ميں سب جگہ عورت پر ظلم ہوا ہے ليکن بڑے پيمانے پر ہونے والا يہ ظلم مثلاً ماضي قريب ميں ہونے والا ظلم دراصل مغربي تمدن کا نتيجہ ہے۔
  • حقوق نسواں کے بارے ميں استکبار کي غلطي
    حقوق نسواں کے بارے ميں استکبار کي...
    جاہليت سے مالا مال عالمي استکبار بہت بڑي غلطي ميں ہے کہ جو يہ خيال کرتا ہے کہ ايک عورت کي قدرو قيمت اور بلند مقام اِس ميں ہے کہ وہ خود کو مردوں کيلئے زينت و آرائش کرے
  • صارفین کی تعداد :
  • 3353
  • 9/30/2009
  • تاريخ :

مردوں كے فرائض

مرد

خاندان كا سرپرست

مياں بيوي، خاندان كے دوبڑے ركن ہوتے ہيں ۔ ليكن مرد كو ، اس سبب سے كہ اس كو قدرت كى جانب سے كچھ خصوصيات عطا كى گئي ہيں اور عقل و سمجھ كے لحاظ سے قوى تر بنایا گيا ہے ، بڑا اور خاندان كا سرپرست سمجھا جاتا ہے ۔

خداوند بزرگ و برتر نے بھى اس كو خاندان كا سرپرست اور ذمہ دار ٹھہرايا ہے ، قرآن مجيد ميں فرماتا ہے: مرد عورتوں كے سرپرست ہيں كيونكہ خدا نے بعض لوگوں كوبعض دوسروں پر برترى عطا كى ہے ۔ (1)

چونكہ مرد كا مرتبہ برتر ہے لہذا فطرى طور پر اس كے فرائض بھى سنگين تر اور دشوار تر ہوں گے ، وہى اپنى عاقلانہ تدبر سے خاندان كا بہترين طريقے سے انتظام چلا سكتا ہے اور ان كى خوش بختى و سعادت كے اسباب مہيا كر سكتا ہے اور گھر كے ماحول كو بہشت بريں كى مانند منظم و مرتب اور خوشگوار بنا سكتا ہے ۔ اور اپنى بيوى كو ايك فرشتہ كا روپ عطا كر سكتا ہے ۔

حضرت رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : مرد خاندان كے سرپرست ہيں اور ہر سرپرست پر اپنے تحت تكفل افراد كى ذمہ دارياں عائد ہوتى ہيں ۔ (2)

مرد ، جو كہ گھر كا منيجر ہے ، اس كو اس نكتہ كو مد نظر ركھنا چاہئے كہ عورت بھي، مرد ہى كى مانند ايك انسان ہوتى ہے ۔ خواہشات اور آرزوئيں ركھنے اور زندگى و آزادى كا حق ركھتى ، انہيں سمجھنا چاہئے كہ شادى كركے كسى لڑكى كو اپنے گھر لانے كا مطلب لونڈى يا كنيز لانا نہيں ہے ۔ بلكہ اپنى زندگى كى ساتھى ، اور اپنے لئے مونس و غمخوار لانا ہے ۔ اس كى اندرونى خواہشات اور آرزوؤں و تمنّاؤں پر بھى توجہ دينا چاہئے ۔ ايسا نہيں ہے كہ مرد، بيوى كے مالك مطلق ہيں اور ان كى حيثيت ايك مطلق العنان حكمران كى سى ہے ۔ بيوى كے بھى شوہر پر كچھ حقوق ہوتے ہيں ۔

خداوند عالم قرآن مجيد ميں فرماتا ہے : جس طرح بيوى پر اپنے شوہروں كى نسبت فرائض ہيں، اسى طرح ان كے كچھ حقوق بھى ہيں ۔ اور مردوں كو ان پر برترى ہے ۔ (3)

بيوى كى ديكھ بھال

اسلامى شريعت ميں ، جس طرح شوہر كى ديكھ بھال كو ، ايك عورت كے لئے جہاد سے تعبير كيا گيا ہے ، اسى طرح بيوى كى ديكھ بھال كو بھى ايك شادى شدہ مرد كا سب سے اہم اور گرانقدر عمل سمجھا گيا ہے اور اس ميں خاندان كى سعادتمندى مضمر ہے ۔ لكن ''زن داري'' يا بيوى كى ديكھ بھال كوئي آسان كام نہيں ہے بلكہ يہ ايك ايسا راز ہے جس سے ہر شخص كو پورى طرح آگاہ و با خبر ہونا چاہئے تاكہ اپنى بيوى كو اپنى مرضى كے مطابق ايك آئيڈيل خاتون ، بلكہ فرشتہ رحمت كى صورت دے سكے ۔

جو مرد واقعى ايك شوہر كے فرائض بنھانا چاہتے ہيں ان كو چاہئے كہ اپنى بيوى كے دل كو موہ ليں ۔ اس كى دلى خواہشات و رجحانات و ميلانات سے آگاہى حاصل كريں اور اس كے مطابق زندگى كا پروگرام مرتب كريں ۔ اپنے اچھے اخلاق و كردار و گفتار اور حسن سلوك كے ذريعہ اس پر ايسا اچھا اثر ڈاليں كہ خود بخود اس كا دل ان كے بس ميں آ جائے ۔ اس كے دل ميں زندگى اور گھر سے رغبت و انسيت پيدا ہو اور دل و جان سے امور خانہ دارى كو انجام دے ۔

''زن داري'' يا بيوى كى ديكھ بھال كے الفاظ ، جامع اور مكمل مفہوم كے حامل ہيں كہ جس كى وضاحت كى ضرورت ہے اور آئندہ ابواب ميں اس موضوع پر تفصيلى بحث كى جائے گى ۔

 

نام كتاب  ازدواجى زندگے كے اصول يا خاندان كا اخلاق
مصنّف حجة الاسلام و المسلمين ابراہيم اميني
ترجمہ  محترمہ عندليب زہرا كامون پوري
كتابت  سيد قلبى حسين رضوى كشميري
ناشر سازمان تبليغات اسلامى روابط بين الملل
تہيہ و تنظيم شعبہ اردو۔ سازمان تبليغات اسلامي
تاريخ  جمادى الثانى سنہ 1410 ھ

حوالہ جات :

1- سورہ نساء آيت 34

2-  مستدرك ج 2 ص 550

3-  سورہء بقرہ آيت 228


متعلقہ تحریریں :

مغربي عورت کي حالت زار

خواتین کے حقوق موجودہ دنیا کا ایک پیچیدہ مسئلہ