• صارفین کی تعداد :
  • 4437
  • 8/15/2009
  • تاريخ :

میں جس گمان میں رہتا ہوں  ایک مدّت سے

گمان

میں جس گمان میں رہتا ہوں  ایک مدّت سے
وہ اس گمان کی حد کو تو چھو کے دکھلاۓ

 

مجھے بھلا یہاں کیسے سمجھ سکے کوئی

خود اس تلاش میں لمبے سفر سے ہو آۓ

 

ازیتوں کا ، دکھوں کا ہجوم رہتا ہے

مجھے قریب سے دیکھے کوئی تو مر جاۓ

 

بہت سے لوگ مجھے روز آ  کے ملتے ہیں

کوئی تو ہو مجھے آ  کے مجھ سے ملواۓ

 

میں رات  دیر تلک سوچتا   رہا  خود کو

وہ سو گۓ ہیں جنہوں نے گناہ گنواۓ

 

شاعر کا نام : ڈاکٹر کاشف سلطان

کتاب کا نام : محبت بانجھ رشتہ ہے

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ  تحریریں:

لکھتا ہوں کہ شاید کوئی افکار بدل دے

حوس پرست ہوں اتنا کہ سانس لیتا ہوں

ازل سے بستی حیراں پہ ایک سایہ تھا

گر دوستی میں آج بھی اپنا مقام ہے

طے کرکے مسافر کو مسافت نہیں آتی