• صارفین کی تعداد :
  • 4361
  • 8/9/2009
  • تاريخ :

برصغیر کے مسلمانوں کی قربانی

برصغیر

دوسری جنگ عظیم کے بعد برصغیر کے مسلمانوں و ہندوؤں نے مشترکہ طور پر برصغیر کی آزادی کی تحریک کو تیز کر دیا۔ اس آزادی کے لئے برصغیر میں تمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے عوام نے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے مشترکہ جدوجہد شروع کر دی کیونکہ برصغیر میں دو مذاہب کی تعداد زیادہ تھی، ایک مسلمان دوسرا ہندو، کیونکہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت قائم تھی اور انگریزوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کا قیام عمل میں لا کر ہندوستان پر قبضہ کرنے کی سازش کی اور اس سازش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے انگریزوں نے مسلمان حکمرانوں کے اندر تفرقہ پیدا کرنا شروع کر دیا جو انگریزوں کا پرانا ہتھیار ہے، لہٰذا ایک سازش کے تحت ایسٹ انڈیا کمپنی کا قیام مسلمانوں کی تباہی کا باعث بنا۔ مسلمانوں نے برصغیر میں حکومت کی جس  کا دار و مدار انصاف کی بالادستی پر تھا کیونکہ برصغیر میں مسلمانوں کی تعداد ہندوؤں سے کم تھی لیکن اس کے باوجود مسلمانوں نے برصغیر میں پیار، امن اور بھائی چارگی کی فضا کو پروان چڑھایا، لیکن شک و شبہات ایک گھن ہے جو مسلمان حکومت کی تباہی کا باعث بنی۔ انگریزوں نے مسلمانوں کے اندر لالچ، شک و شبہات اور اختلافات کی بنیاد قائم کی اور مسلمان انگریزوں کے اس قبیح فعل سے واقف نہ ہو سکے۔ اس طرح سازشی جال نے مسلمانوں کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا اور اس گھناؤنی سازش کے تحت مسلمان غلامی کی زنجیروں میں جکڑتے چلے گئے اور انگریزوں نے برصغیر پر اپنا تسلط قائم کر لیا۔ انگریزوں نے مسلمانوں کو غلاموں کی زنجیروں میں جکڑتے ہوئے برصغیر کے آخری شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کر رنگون میں قید کر دیا اور ان کی موت جیل خانے میں ہوئی۔

   یہ کرب ناک غلامی کی زندگی مسلمانوں کی کئی پشتوں کو بھگتنا پڑی اور تقریباً سو سال کے بعد غلامی سے آزادی کے لئے ٹیپو سلطان انگریزوں کے ساتھ نبرد آزما رہے۔ ٹیپو سلطان نے برصغیر کی آزادی کے لئے انگریزوں کو متعدد بار سبق سکھایا اور ببانگ دہل انگریز کے ساتھ ہر محاذ پر آزادی کی جنگ لڑی اور انگریزوں کو یہ باور کرایا کہ تم برصغیر سے نکل جاؤ اور مسلمانوں کے ساتھ ظلم و جبر کی داستانیں رقم کرنا بند کر دو۔ اگر تم نے مسلمانوں کے ساتھ اپنا رویہ درست نہیں کیا اور انہیں آزادی نہ دی تو ٹیپو سلطان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس آزادی کے سپاہی نے مسلمانوں کو انگریزوں کی غلامی سے آزادی دلانے کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہوئے شہادت کا اعلیٰ درجہ حاصل کیا۔ ٹیپو کی بہادری کی مثال ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ آج بھی تاریخ ٹیپو کی بہادری کی مثالیں پیش کرتی ہے۔ جب ٹیپو سلطان کی شہادت ہوئی تو کئی دن تک انگریز سپاہی ڈر سے ٹیپو سلطان کے قریب نہیں گئے کہ ٹیپو سلطان زندی ہے۔

   پاکستان مسلمانان برصغیر کے خوابوں کی تعبیر ہے، وہ خواب جو ٹیپو سلطان، مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ، سر سید احمد خان، اعلٰی حضرت سید احمد رضا خان بریلوی، جمال الدین افغانی، حسرت موہانی، مولانا محمد علی جوہر و مولانا شوکت علی و متعدد سربرآوردہ اکابرین و بزرگان دین نے دیکھا تھا۔ 1857ء کی ناکام جدوجہد آزادی کے بعد ہندوستان پر انگریزوں کا تسلط قائم ہو گیا لیکن ان سب حالات کے باوجود اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں نے آزادی کے لئے نبردآزما ہوتے ہوئے آزادی کی جنگ میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے ہوئے آزادی کے ان سپاہیوں نے جام شہادت نوش کیا۔ یہ آزادی کی داستانیں کئی سالوں پر محیط ہے، شیخ احمد سر ہندی اور شاہ ولی اللہ نے مسلمانوں سے کہا کہ اگر وہ ہندوستان میں باعزت اور کامیاب زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو انہیں کفر و اسلام کے مابین مفاہمت سے گریز کرنا ہو گا۔ غلامی کی پاداش میں مسلمان زندگی کے ہر شعبہ میں پسماندگی کا شکار تھے اور مسلمان تعلیمی میدان میں بہت پیچھے تھے جب کہ آزادی کی لڑائی میں مسلمانوں کو علم کی آگاہی کی اشد ضرورت تھی کیونکہ علم کے بغیر آزادی نا ممکن تھی، لہٰذا سوئے ہوئے مسلمانوں کو جگانے کے لئے سر سید احمد خان اور ان کے احباب نے مدرسہ علوم علی گڑھ کے قیام کے تحت مسلمانوں میں جدید علم کے حصول کا جذبہ پیدا کیا۔

   مسلمانوں نے اپنی آزادی کی تحریک کو عملی جامہ پہنانے کے لئے انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی کو تیز کر دیا، ادھر دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ حکومت کی اتنی بساط نہیں تھی کہ وہ اتنی بڑی حکومت کو سنبھال سکیں۔ لہٰذا انگریزوں نے دوبارہ مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں سے مل کر سازشیں شروع کر دیں۔ انگریزوں کی یہ کوشش تھی کہ برصغیر کو آزادی دے دی جائے، لیکن ہندوؤں کو یہاں مسلمانوں پر مسلط کر دیا جائے۔ اس سازش کے تحت انگیز اور ہندو ایک ہو گئے اور مسلمانوں کو دوبارہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کی سازشیں شروع ہو گئیں، لیکن مسلمانوں کو اس سازش کا اندازہ ہو گیا، لہٰذا مسلمانوں نے اس سازش کو قائداعظم کی رہنمائی میں بے نقاب کر دیا اور قائداعظم نے کانگریس سے فوری استعفیٰ دے دیا۔ استعفیٰ کے بعد قائداعظم نے مسلمانوں کو اس سازش سے آگاہی فراہم کرتے ہوئے ہندوؤں اور انگریزوں کی سازشوں کو ناکام بنا دیا۔

   قائداعظم نے برطانیہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہندو اور مسلمان دو علیحدہ علیحدہ قومیں ہیں لہٰذا ہم کسی بھی صورت میں اکھنڈ بھارت کی آزادی میں ہندوؤں کا ساتھ نہیں دیں گے۔ ان حالات کے پیش نظر بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی سیاسی بصیرت اور دور اندیشی کے تحت مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ مملکت کا برطانیہ حکومت سے مطالبہ کیا۔ اس مطالبہ کی پاداش میں ہندو، مسلمانوں کے دشمن ہو گئے۔ ہندوؤں نے مسلمانوں کے خلاف آگ و خون کی ہولی کھیلی اور مسلمانوں کا جینا دو بھر کر دیا کیونکہ ہندوؤں کی تعداد مسلمانوں سے بہت زیادہ تھی لیکن ان سب حالات کے باوجود برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی جان و مال کی پروا کئے بغیر اس آزادی کی تحریک کو کامیاب بنانے کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمان جنہوں نے اقلیتی صوبوں میں رہتے ہوئے بھی پاکستان کی آزادی کی تحریک کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا، یہ سب جانتے ہوئے کہ ہم اقلیت میں ہیں، یہاں ہمیں آزادی حاصل نہیں ہو گی، لیکن مادر وطن کی آزادی کے لئے انہوں نے سب کچھ لٹا دیا۔ ہمیں پیارا پاکستان دے گئے۔ آج ہم جو آزادی کے سانس لے رہے ہیں یہ آزادی دراصل برصغیر کے شہداء کی بے تحاشا قربانیوں کا ثمر ہے۔ آئیے اس آزادی کی فضا کو چار چاند لگا دیں، جو ہمارے آباؤ اجداد کی نشانی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اس وطن کو اس لئے بنایا تھا کہ ہماری آنے والی نسل آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ یہ پیارا پاکستان ہمیں اپنے شہداء کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ جب ہمارا کوئی سہارا نہ تھا، ہم بے یار و مددگار تھے، لیکن یکجہتی اور ایمان کی قوت سے ہمارے بزرگ مالا مال تھے، جس کی بنیاد پر ہمارے بزرگوں نے یہ وطن حاصل کیا۔ آئیے ہم اس دن کے توسط سے قومی یکجہتی کی فضا کو پروان چڑھائیں اور اپنے وطن کی ترقی میں ہم سب پاکستان کی خدمت میں اپنا کردار ادا کریں۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ سب سے پہلے پاکستان ہے، کیونکہ پاکستان مسلمانوں کیلئے ایک قوت ہے اور اس وقت ملک میں افراتفری کی فضا پیدا کرنے والے دشمن عناصر سازشوں میں مصروف ہیں۔ اگر ہمارے وطن عزیز کی با اثر طاقتوں نے ہوش و عقلمندی کا ثبوت نہیں دیا تو ہمیں تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے کہ ہم ملک میں انصاف کی فراہمی کو ممکن بنائیں اور ملک سے فرسودہ نظام کا خاتمہ عمل میں لائیں۔  

تحریر : کوثر علی صدیقی  ( روزنامہ جنگ )


متعلقہ تحریریں:

شاعر مشرق حضرت علامہ محمد اقبال کے یوم وفات پر خصوصی اشاعت

یوم پاکستان پر خصوصی اشاعت