• صارفین کی تعداد :
  • 1573
  • 7/25/2009
  • تاريخ :

مان لے اب بھی مری جان ادا، درد نہ چن

دعا

مان لے اب بھی مری جان ادا، درد نہ چن
کام آتی  نہیں پھر کوئی دعا ، درد نہ چن

 

اور کچھ دیر میں مجھ کو چلے جانا ہو گا

اور کچھ دیر میں مجھے خواب دکھا ، درد نہ چن

 

ایک بھی درد نہ کم ہو  گا کئی صدیوں میں

اب بھی کہتا ہوں  تجھے وقت بچا ، درد نہ چن

 

وہ جو لکھا ہے کسی طور نہیں ٹل سکتا

آ مرے دل میں کوئی دیپ جلا ، درد نہ چن

 

میں ترے لمس سے محروم نہ رہ جاؤں کہیں

آخری بار مجھے خود سے لگا ، درد نہ چن

 

اب تو یہ ریشمی پوریں بھی چھدی جاتی ہیں

خود کو اب بخش بھی دے ، ظلم نہ ڈھا ، درد نہ چن

 

یہ نہیں ہوں گے تو  خالی نہیں  ہو جاؤں گا میں

میرے زخموں میں کوئی گیت بنا ، درد نہ چن

 

کچھ نہ دے گا یہ مسائل سے الجھتے رہنا

چھوڑ سب کچھ مری بانہوں میں سما ، درد نہ چن

 

شاعر کا نام : وصی شاہ

کتاب کا نام : مجھے صندل کر دو

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

گلی میں درد کے پرزے تلاش کرتی تھی

وصی شاہ کی شاعری