• صارفین کی تعداد :
  • 1547
  • 7/18/2009
  • تاريخ :

اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں

جاده

اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں
دھوپ اتری ہوئی ہے بالوں میں
تم مری آنکھ کے سمندر میں
تم مری روح کے اجالوں میں
پھول ہی پھول کھل اٹھے مجھ میں
کون آیا مرے خیالوں میں
میں نے جی بھر کے تجھ کو دیکھ لیا
تجھ کو الجھا کے کچھ سوالوں میں
میری خوشیوں کی کائنات بھی تو
تو ہی دکھ درد کے حوالوں میں
جب ترا دوستوں میں ذکر آۓ
ٹیس اٹھتی ہے دل کے چھالوں میں
تم سے آباد ہے یہ تنہائی
تم ہی روشن ہو گھر کے جالوں میں
سانولی شام کی طرح ہے وہ
وہ نہ گوروں میں ہے ، نہ کالوں میں
کیا اسے یاد آ رہا  ہوں وصی
رنگ ابھرے ہیں اس کے گالوں میں

 

شاعر کا نام : وصی شاہ

کتاب کا نام : مجھے صندل کر دو

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

وصی شاہ کی شاعری

الجھن