• صارفین کی تعداد :
  • 2858
  • 6/2/2009
  • تاريخ :

کیا شیعوں کا نظریہٴ امامت آزادی کے خلاف ہے

امامت

حریت و آزادی کا لفظ انسانوں کے کانوں میں پڑنے والا اب تک کا سب سے لطیف اور پرجوش لفظ ہے ۔ اس لفظ کا سننا ہی لوگوں کے اندر کیف و نشاط ،وجد و خوشی کی لہر پیدا کر دیتا ہے ۔ ایک صحیح فکر رکھنے والے انسان کی سب سے بڑی آرزو اور تمنا  قید و بند سے نجات ،استعمار سے جہاد اور آزادی کی بلند بام چوٹی کو فتح کرنا ہے ۔ آزادی سے متعلق انسان کا لگاؤ اتنا زیادہ ہے کہ اس نے اس راہ میں بہت سی قربانیاں دی ہیں اور حد سے زیادہ فداکاریاں کی ہیں۔

یہ درست ہے کہ انسان نے یہ بخوبی محسوس کر لیا ہے کہ اجتماعی زندگی ایک ایسے حاکم کے بغیر ممکن نہیں ہے جس کی رائے نافذ اور جس کا فیصلہ قطعی۔ لیکن ساتھ ہی وہ اس پر بھی ہرگز آمادہ نہیں ہے کہ اپنے مقدرات کسی ایسے شخص کے ہاتھ میں دے دے جس کے انتخاب کا اختیار اس کے ہاتھ میں نہ ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ خاص طور سے عصر حاضر میں معاشرہ کے حاکم و ذمہ دار کے تعین کے طریقوں میں وہ صرف اسی روش کو صحیح جانتا ہے ،جس میں وہ اپنے رہبر کے انتخاب میں خود مختار اور آزاد ہو۔ جو حاکم ایک قوم کی سرنوشت کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے وہ خود عوام سے ابھرے اور عوام  نے اسے منتخب کیا ہو ۔ ورنہ دوسری صورت میں وہ ایک فرد کی حکومت کو اصول آزاد کے خلاف اور جبر کی حاکمیت سمجھتا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ امامت کے سلسلہ میں پائے جانے والے دو نظریوں میں کون سا نظریہ ڈیموکریسی کے اصول سے زیادہ سازگار ہے ،یہ کہ منصب امامت ایک انتخابی منصب ہے یعنی امام کو ”عام لوگوں کے ذریعہ یا اسلام کی اعلیٰ کمیٹی “ کے ہوتھوں چنا جانا چاہئے ۔ یا یہ کہ رہبر اور جانشین پیغمبر (ص) کا انتخاب عوام کے ہاتھ میں نہ ہو بلکہ وہ سو فیصد ی خدا کی جانب سے منصوب ہو یعنی امام کوخدا اور پیغمبر کی جانب سے معین ہونا چاہئے ؟

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پہلا نظریہ آزادی کے اصول سے زیادہ ہم آہنگ ہے ۔ اگر ہم رسول خدا (ص) کی جانشینی کے منصب کو انتخابی سمجھیں تو اس صورت میں ہمیں یہ فخر کرنا چاہئے کہ لیبرلیزم اور آزادی مغرب میں پروان چڑھنے سے پہلے مشرق میں اور ایک ہزار چار سو سال پہلے قابل عمل تھی ۔ لیکن اس راہ سے ہم اس جگہ پہنچتے ہیں جہاں پہلے نظریہ پر عمل ہی نہیں ہوا ۔

آج اہل سنت معاشرہ کے بعض اہل قلم شیعہ نظریہ یعنی امامت کے انتصابی ہونے کے موضوع پر تنقید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص)کی جانشینی کا نصبی ہونا  آج کے سماجی نظریات اور آزادی کی روح سے کسی بھی طرح سازگار نہیں ہے۔

جواب : شاید جو سب سے اہم اور دلچسپ منطق امام کے انتخابی ہونے کے سلسلہ میں پیش کی جا سکتی ہے اور جسے آج کے انسانی معاشرہ کے خیالات سے قریب قرار دیا جا سکتا ہے، وہی منطق ہے جسے ہم اوپر بیان کر چکے ہیں اور جو کم و بیش بعض علمائے اہل سنت کے قلم سے بھی ظاہر ہو چکی ہے ۔اس طرز استدلال کا تفصیلی جواب اس پر منحصر ہے کہ موجودہ بحث کے تین اساسی نکتے پوری طرح واضح ہوں:

۱۔ منصب امامت کانصبی یا منصوبی ہونا ”استبداد “ اور جبر سے بالکل جدا ہے۔

۲۔ مغرب کی جمہوری حکومتیں جو اقلیت پر اکثریت کی حکومت کی اساس پر استوار ہیں ۔ وہ ان غیر عادلانہ سیاسی نظاموں میں سے ہیں جنھیں آج کے انسانوں نے مجبور ا ًقبول کیا ہے۔

۳۔ اگر یہ فرض کر لیں کہ حاکم کے انتخاب کے لئے یہی روش صحیح ودرست ہے تو کیا صدر اسلام میں خلفاء کے انتخاب میں اس روش پر عمل ہو ا ہے؟

ان تین نکتوں خاص طور سے دوسرے اور تیسرے نکتہ پر مفصل بحث کی ضرورت ہے کہ ہم اختصار کے ساتھ ان میں سے ہر ایک پر روشنی ڈالتے ہیں۔

                                                                                                                                                                جاری ہے

کتاب کا نام امت کی رہبری
مولف آیۃ اللہ جعفر سبحانی
مترجم سید احتشام عباس زیدی
ناشر مجمع جہانی اہل بیت (ع)
پیشکش مہدی (عج) مشن

 


متعلقہ تحریریں:

امام کی شناخت کا فلسفہ

امامت کے سلسلہ میں دو نظریئے