• صارفین کی تعداد :
  • 3029
  • 5/30/2009
  • تاريخ :

داغ

داغ دهلوی

عظمت غالب ہے ، اک مدّت سے پیوندِ زمیں

مہدیٔ مجروح ہے شہرِ خموشاں کا مکیں

توڑ ڈالی غربت نے غربت میں مینائے امیر

چشمِ محفل میں ہے اب تک کیف صہبائے امیر

آج لیکن ہمنوا ! سارا چمن ماتم میں ہے

شمعِ روشن بجھ گئی، بزم سخن ماتم میں ہے

بلبلِ دلّی نے باندھا اس چمن میں آشیاں

ہمنوا ہیں سب عنا دل باغِ ہستی کے جہاں

چل بسا داغ آہ! میّت اس کی زیبِ دوش ہے
آخری شاعر جہان آباد کا خاموش ہے

!اب کہاں وہ بانکپن! وہ شوخی طرز بیاں

آگ تھی کافور پیری میں جوانی کی نہاں

تھی زبانِ داغ پر جو آرزو ہر دل میں ہے

لیلی معنی وہاں بے پردہ، یاں محمل میں ہے

اب صبا سے کون پوچھے گا سکوتِ گل کا راز

کون سمجھے گا چمن میں نالۂ بلبل کا راز؟

تھی حقیقت سے نہ غفلت فکر کی پرواز میں
آنکھ طائر کی نشیمن پر رہی پرواز میں

اور دکھلائیں گے مضموں کی ہمیں باریکیاں

اپنے فکرِ نکتہ آرا کی فلک پیمائیاں

تلخی دوراں کے نقشے کر رلوائیں گے

یا تخیّل کی نئی دنیا ہمیں دکھلائیں گے

اس چمن میں ہوں گے پیدا بلبلِ شیراز بھی

سیکڑوں ساحر بھی ہوں گے، صاحبِ اعجاز بھی

اٹھیں گے آزر ہزاروں شعر کے بتخانے سے

مے پلائیں گے نئے ساقی نئے پیمانے سے

لکھی جائیں گی کتاب دل کی تفسیریں بہت

ہوں گی اے خوابِ جوانی ! تیری تعبیریں بہت

ہو بہو کھینچے گا لیکن عشق کی تصویر کون؟

اٹھ گیا ناوک فگن، مارے گا دل پر تیر کون؟

اشک کے دانے زمین شعر میں بوتا ہوں میں

تو بھی رو اےَ خاکِ دلّی ! داغ کو روتا ہوں میں

!اے جہان آباد اے سرمایۂ بزمِ سخن!

ہوگیا پھر آج پامالِ خزاں تیرا چمن

وہ گلِ رنگیں ترا رخصت مثالِ بو ہوا

آہ! خالی داغ سے کاشانۂ اردو ہوا

تھی نہ شاید کچھ کشش ایسی وطن کی خاک میں

وہ مہِ کامل ہوا پنہاں دکن کی خاک میں

اٹھ گئے ساقی جو تھے، میخانہ خالی رہ گیا
یاد گارِ بزم دھلی ایک حالی رہ گیا

آرزو کو خون رلواتی ہے بیدادِ اجل

مارتا ہے تیر تاریکی میں صیّادِ اجل

کھل نہیں سکتی شکایت کے لیے لیکن زباں

ہے خزاں کا رنگ بھی وجہِ قیامِ گلستاں

ایک ہی قانونِ عالمگیر کے ہیں سب اثر

بوئے گل کا باغ سے، گلچیں کا دنیا سے سفر

 

   شاعر کا  نام : علامہ محمد اقبال ( iqbal )

کتاب کا نام : بانگ درا  ( bang e dara )

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ  تحریریں:

جگنو

ترانۂ ہندی