• صارفین کی تعداد :
  • 6475
  • 5/11/2009
  • تاريخ :

پہیلیاں ( 121  تا 130 )

سوالیہ نشان

{121}

چھت سے لٹکي رہتي ہے

ديوار سے ٹنگي رہتي ہے

ہنس دے تو اجيارا ہو

چپ رہے تو اندھيارا ہو

{122}

پہاڑ کے اوپر ايک پہاڑ

 اس کے اندر ايک غار

جو کوئي غار کے اندر جائے

دھول بن کر باہر آئے

{123}

پيٹ بھرے تو چلتا جائے

خالي پيٹ تو مر جھائے

تيرا ميرا اپنا اپنا

تيرا مجھ کو نہ بھائے

{124}

نھني سي اک بٹيا ہے

گليلے سا اس کا پيٹ ہے

آئے گا اک ظالم راجہ

پھاڑے گا اس کا پيٹ

{125}

دن بھر شہر کي سير کرے

شام کو کونے ميں آ پڑے

ذرا چھوئو ت چمکے دمکے

ورنہ پڑا پڑا مرجھائے

{126}

نہ وہ بيلا نہ وہ چنبيلي

نہ وہ جو ہي کيا ہے وہ؟

اس کا نام اگر بتا دوں

تو کيا ہے پہيلي؟کيا ہے وہ؟

{127}

دو جبوترے چار بازار

سو ہيں گھوڑے ايک سوار

جسکو ملے وہ ہے خوش

 نہ دے باباب معاف کر

{128}

چاند سے وہ چوڑا ہے

پان سے وہ پتلا ہے

جو نہ کھائے اس کو

اس کي آنکھ ميں تکلا ہے

{129}

دو پر کي پري ہے وہ

گند سے بھري ہے وہ

{130}

کھانے کي يہ چيز نہيں

پر ہر کوئي اس کو کھائے

 

جوابات :

{121}

ٹيوب لائٹ

{122}

چکي

{123}

جوتا

{124}

چھاليہ ۔ سروتا

{125}

جوتا

{126}

مور

{127}

روپيہ

{128}

پاپڑ

{129}

مکھي

{130}

قسم

                                       شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

پہیلیاں ( 81 تا 90 )

پہیلیاں ( 71 تا 80 )