• صارفین کی تعداد :
  • 5374
  • 5/9/2009
  • تاريخ :

لیپ ٹاپ کی دنیا میں نئی جدت، نوٹ بک

لیپ ٹاپ

کمپیوٹر اور آئی ٹی ماہرین کا خیال ہے سائز میں نسبتا چھوٹی نوٹ بک ٹو لیپ ٹاپ اور کمپیوٹرز کی دنیا میں نئی جدتوں کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ اس چھوٹی نوٹ بک میں جو چیز موجودہ  لیپ ٹاپس سے مختلف ہوگی وہ ہے ان میں انٹل کارپوریشن کے پراسیسر اور موجودہ ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کی غیر موجودگی، حالانکہ یہ دونوں چیزیں موجودہ دور کے لیپ ٹاپس کا ضروری حصہ سمجھی جاتی ہیں۔

نوٹ بک ٹو میں جو کہ سائز میں اتنی چھوٹی ہوگی کہ ایک پرس میں بھی سما جائے دراصل بہت ہی کم پاور استعمال کرنے والا ARM پراسیسر لگا ہوگا۔ جو کہ اس وقت جدید موبائل فونز کے ہر دس میں سے نو میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ برطانیہ کی ARM Holdings نامی کمپنی نے اس سلسلے میں مختلف کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کرلئے ہیں۔ اور اب توقع کی جا رہی ہے کہ اس برس کے آخر تک ARM  پراسیسرز پر مشتمل نوٹ بک ٹو کے تقریبا دس ماڈل مارکیٹ میں فروخت کے لئے پیش کردیے جائیں گے۔

کمپیوٹرز اور ٹیکنالوجی سے متعلق تحقیق کرنے والی کمپنی اینڈرلے کے گروپ اینالسٹ راب اینڈرلے کے مطابق یہ نئی نوٹ بکس مارکیٹ کو تہہ وبالا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اور موجودہ لیپ ٹاپ کی مقبولیت کے لئے ایک بڑا خطرہ ثابت ہوسکتی ہیں۔

نئی نوٹ بکس مارکیٹ کو تہہ وبالا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں-

تجزیہ کاروں کے مطابق ابھی تک یہ تو یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ موجودہ لیپ ٹاپ یوزر اس نوٹ بک میں کس قدر دلچسپی لیتے ہیں مگر جو چیزیں نوٹ بک ٹو کو پرکشش بناتی ہیں ان میں بہت کم پاور کا استعمال جس کی وجہ سے ایک مرتبہ چارج کی گئی بیٹری سے بہت دیر تک اس نوٹ بک کو استعمال کیا جاسکے گا۔ دوسرے اس کی قیمت جو کہ تقریبا دو سو امریکی ڈالر تک ہوسکتی ہے اور تیسرے اسکے سائز کی وجہ سے ہرجگہ استعمال کی دستیابی کی سہولت۔

لیکن جن چیزوں پر یوزرز کو سمجھوتا کرنا پڑے گا ان سے سی پہلی چیز ہے موجودہ لیپ ٹاپس کا انٹرفیس یا کام کرنے کا طریقہ اور دوسری بہت زیادہ طاقتور پراسیسر جو بعض اپلیکشنز یا کاموں کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ لیکن اس وقت بھی جو انٹل کا Atom پراسیسر استعمال کرنے والی نسبتا چھوٹی نوٹ بکس مارکیٹ میں دستیاب ہیں اور جن کی قیمت تین سو سے چار سو امریکی ڈالر تک ہے وہ بھی صرف انٹرنیٹ اور عام قسم کے کمپیوٹر اپلیکیشنز کے لئے ہی استعمال کی جا سکتی ہے۔

تحریر: افسراعوان


متعلقہ تحریریں:

اسلا م اور سائنس میں عدم مغایرت

مذہب اور سائنس میں تعلق