• صارفین کی تعداد :
  • 3257
  • 4/14/2009
  • تاريخ :

اسلامي ادب كي ترويج ميں اقبال كا كردار (حصّہ اوّل )

علامه اقبال

ايك  ايسے وقت جب مغربي  ذرائع ابلاغ كے شبانہ روز زہرناك شور و غوغا سے بننے والي ہوش ربا فضا ميں (1) اسلام  اور اھل اسلام  كي حيثيت ايك دہشت گرد مذہب اور غير شائستہ قوم كي بنائي جا رہي ہو-------- اسلامي ادب كي بات كرنا شايد بے وقت كي راگني قرار پائے ليكن اہل مغرب كے ايك مخصوص  طبقے كي اس جانبدارانہ، يك رخي اور شديد متعصبانہ روش سے قطع نظر يہ ايك زندہ اور روشن حقيقت ہے كہ اسلام اور اہل اسلام پوري نوع انساني كے محسن رہے ہيں اور آج بھی اسلام اپني اصلي شكل ميں انسانيت كے ليے اتنا ہي فيض رسان ثابت ہو سكتا ہے جتنا  ماضي ميں تھا . جس طرح اسلام ايك زندہ و پايندہ حقيقت ہے اسي طرح اسلامي ادب بھي ايك روشن حقيقت اور ارفع صداقت ہے جس كا انكار صرف شپرہ چشم ہي كر سکتے ہیں.

گر نبیند بروز شپرہ چشم
چشمۂ آفتاب را چہ گناہ  ؟

اقبال بھی اسلام كے اسي چشمہ آفتاب كے نور سرمدي سے فيض اندوز رہے اور عمر اس كي آفاقي صداقتوں كو بے نقاب كرتے رہے.

ليكن يہاں ايك سوال پيدا ہوتا ہے كيا ادب كي آزاد حيثيت كسي يہودي، عيسوي يا اسلامي سابقے كي متحمل ہو سكتي ہے اور كيا ايسا كرنا ادب كي لا محدود وسعتوں كو زنجير كرنے كے مترادف نہ ہوگا. يہ سوال اٹھايا گيا ہے ماضي ميے بھی بار بار اٹھايا جاتا رہا ہے اور اہل نظر اس كا جواب فراہم كرتے رہے ہيں۔ مختصر يہ ہے كہ دنيا بھر کا بڑا ادب دائمي و آفاقي مذہبي صداقتوں كا حامل رہا ہے . اور يہ صداقتيں رنگ و نسل و زبان و مكان كي حدود سے ماورا رہي ہيں۔  ڈيويڈ  دیشز  نے جو يہودي مذہب كا پيرو تھا اپنے ايك مضمون شاعري اور اعتقاد ميں اس موضوع پر بڑي عمدہ بحث كي ہے۔

 يہ بحث اصلا اس كي پوري كتاب "God and poets"  كے تاروپود ميں رچي بسي ہے ۔ ڈیشز سوال اٹھاتا ہے كہ تخيلاتي ادب اور شاعري ميں آخر وہ كونسي شے ہے جو قاري كو اس كے ذاتي معتقدات سے آزاد كركے اسے اس قابل بناتي ہے كہ وہ شاعر كي دنيا  ميں صرف رواداري ہي سے نہيں مثبت مسرت كے احساس كے ساتہ داخل ہو جاتا ہے . اس كے نزديك اس سوال كا اطلاق ان عيسائيوں پر بھی اسي قدر ہوتا ہے جو ہومر، سوفوكليز اور ورجل كي تحسين كرتے ہيں جتنا ان غير عيسائيوں پر جو دانتے يا ڈن كي تعريف كرتے ہيں . پھر اس سوال كا جواب ديتے ہوئے ڈیشز كہتا ہے كہ بڑے ادب ميں يقين و اعتقاد كي حيثيت ايك قسم كي زبان كي ہوتي ہے اور زبان ذريعہ ہے ابلاغ كا. حساس قاري كي ايك نشاني زبان كے معاملے ميں اس كي وسيع القلمي ہے اور يہ وسيع القلمي اس كي اس آمادگي كو منحصر ہوتي ہے جو معتقدات كے كسي بھی نظام كو اس صورت ميں مان لينے پر تيار ہوتي ہے جب وہ نظام كسي ماہر اور بڑے متخيلہ كے حامل شاعر كے ہاتھوں شعر كا روپ دھارتا ہے . بڑي شاعري معتقدات كو زبان ميں اس طرح جذب كر ليتي ہے كہ زبان ابلاغ كي اس سطح پر پہنچ جاتي ہے جو ان نعتقدات كي حدود سے ماور  ہوتا ہے .

ايك شے جس كو ڈیشز  نے اپنے مذكورہ مبحث ميں نظر انداز كيا ہے وہ الہامي مذاھب كي ماورائي وحدت ہے جس  كے باعث ايك يہودي، عيسائي عقايد سے انجذاب پذير شاعري سے لطف اندوز ہوتا ہے اور ايك  يہودي، عيسائي  يا مسلم عناصر شاعري سے مسرت كشيد كرتا ہے .

اس مختصر مبحث سے مقصود يہ تھا كہ مذہبي معتقدات كي حامل شاعري قاري كے لئے زنجير پا نہيں ہوتي ہے بشرطيكہ يہ معتقدات شاعري تاروپود ميں اس طرح حل ہو جائيں كہ "بو گلاب اندر" كي صورت دلپذير پيدا ہوجائے.

1. اس هوش ربا مهم كي تفضيل كے ليے محض دو كتابيں هي ديكه لينا كافي هو گا. ايڈوڑڈ سعيد "covering Islam" كا نيا ايڈشن (1996 ء) اور اكبر ايس احمد كي كتاب "post-modernism and Islam" . گو كه اكبر ايس احمد كو ايڈوڑڈ سعيد كي بعض تعبيرات سے اتفاق نهيں مگر بحيثيت مجموعي دونوں كي فراهم كرده تفضيلات بڑي چشم كشا هيں.

                                                                                                                                                     جاری هے

ڈاکٹر تحسین فراقی

شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان