• صارفین کی تعداد :
  • 4457
  • 4/18/2009
  • تاريخ :

عظمت دوجہاں محمد اور انسانی حقوق (حصہ سوم )

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کسی دوسرے انسان کےحقوق کو عزت کی نگاہ سےدیکھنےکا مطلب یہ ہےکہ اس کی قدر و قیمت اس کےانسانی اوصاف کی بناء پر ہونی چاہیےنہ کہ اس کی شخصیت کی بناء پر ، اس میں ظاہری حد بندیوں، اختلافات اور نظریاتی کشمکش کی عمل داری نہیں  ہونی چاہئے۔ حقوق انسانی کےعلم برداروں کی یہی دلیل برملا تقاضا کرتی ہےکہ نبی اکرم جو بلاشک و شبہ اللہ تعالیٰ کےبعد دنیا کےسب سےبلند ، اعلیٰ اور بہترین ہستی ہیں اور آپ کےانسان کامل اور سب سےبہترین انسان ہونےپر دنیا کا اجماع اور اتفاق ہے تو پھر وہ کونسی بات ہے جو مخالفین اور اسلام دشمنوں کو آپ کی توہین پر آمادہ کرتی ہے؟ اور کیا ایسےبدبخت آزادی صحافت اور اس قسم کےدیگر نعروں کےعلم بردار اشخاص کسی قسم کی رعایت کےمستحق ہوسکتے ہیں؟

ظاہر ہےکسی کا استحقاق ملحوظ خاطر نہ رکھنے والوں کا نہ کوئی استحقاق ہوسکتا ہےاور نہ ہی کوئی حق ۔ ایسےافراد ملعون ہوتے ہیں اور انسانیت کے نام پر دھبہ ۔

حب رسول اور عشق رسول کےذیل میں جوش ، غیرت اور محبت کےحوالےسےذات رسالت مآب کی عزت و ناموس کی حرمت و حفاظت کےلیےآج کی امت مسلمہ کو اقوام متحدہ، کامن ویلتھ اور غیر جانبدار ممالک کی تحریک جیسےعالمی اداروں میں توہین رسالت مآب کےخلاف قرارداد منظور کرانےسےکم کسی چیز پر ہرگز راضی نہیں  ہونا چاہیےاور واضح کیا جائےکہ اس قسم کی گھناؤنی اور قبیح حرکت کو عالم اسلام اپنےخلاف جنگ تصور کرےگا، عظمت و رفعت اور اسلامی تعلیمات کےفروغ کےذیل میں ہوش کےحوالےسےحکمت و موعظت حسنہ کی روشنی میں تحقیق و تبلیغ کےلیےاعلیٰ تحقیقی ادارے برائےسیرت و ادب اسلامی وغیرہ تشکیل دینا چاہئیں ۔ ضرورت اس امر کی ہےکہ سیرت مطہرہ علی صاحبہا التحیۃ السلام کےفروغ اور اشاعت کےلیےمسلمانوں کا ایک بین الاقوامی سطح کا ادارہ قائم کیا جائے۔ یہ ادارہ براہ راست او آئی سی کی نگرانی میں کام کرے۔علاوہ ازیں جملہ مسلم ممالک اور مسلم اقلیتیں بھی اپنےاپنےممالک میں عظمت و تحفظ ناموس رسالت کا کام کریں اور حسب ذیل اغراض و مقاصد کو سامنے رکھیں۔

٭ حضورختم المرسلین و افضل النبیین محمد کی بارگاہ اقدس میں ہدیہ پیش کرنا جن کی بدولت دنیا کو ظلمت سےنجات ملی اور ہدایت کی روشنی نصیب ہوئی۔

٭ عہد جدید کےانسان کی مدد کرنا تاکہ وہ اسوہ حسنہ کی روشنی میں اپنےکردار و سیرت کی تشکیل کرسکےاور عہد حاضر کےمسائل کا حل تلاش کر سکی۔

٭ دانشوروں اور محققین میں اسلام کی روح بیدار کرنا تاکہ وہ آنحضرت کےابدی پیغام کو نہایت مؤثر اور مناسب طور سےدنیا میں پھیلا سکیں۔

٭ آنحضرت کی عطاکردہ عالم گیر آفاقی قدروں مثلاً اخوت ،عدل اور احسان کو مدنظر رکھتےہوئےآپ کی سوانح اور سیرت کی تعلیم و تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنا ۔

٭ اسلام اور پیغمبر اسلام کےبارے میں لاعلمی پر مبنی غلط فہمیوں اور تعصّبات کو دور کرنےکےلیےمناسب و مؤثر طریق کا ر وضع کرنا۔

اس جگہ اس بات کو بھی سمجھ لیا جائےکہ عبادات کی ادائیگی حقوق اللہ کےحوالےسےہر انسان کا اپنےخالق سےذاتی معاملہ ہےجس میں کمی اللہ رب العزت کےہاں قابل مواخذہ ہونےمیں کوئی کلام نہیں  لیکن اللہ کی رحمت ہر شئےپر حاوی ہےہم میں سےہر ایک کو دعا کرنی چاہیےکہ وہ ہماری لغزش اور کوتاہی کو اپنی رحمت اور فضل سےمعاف فرما دےاور یقینا یہ اس کی رحمت سےبعید نہیں  ہے۔ ہمیں اپنےحق میں اللہ سےعدل و انصاف سےزیادہ اس کےفضل و عنایت کی تمنا اور آرزو کرتےرہنا چاہئے۔

لیکن معاملات یعنی حقوق العباد میں جان بوجھ کر کوتاہی بہرطور اللہ کےقول کےمطابق ناقابل معافی عمل ہے۔ ہاں جب تک کہ فریق متاثرہ خود معاف نہ کر دےبےشمار احادیث میں باہمی معاملات میں کمی و کوتاہی کو دور کرنےپر زور دیا ہے۔ معاملات میں کجی کو ناپسندیدہ عمل گردانتےہوئےاس پر سخت پکڑ اور وعید بھی سنائی گئی ہے۔ ہر مسلمان دوسرےمسلمان کا بھائی ہےاس کی عزت اور اس کےجان و مال کا تحفظ اس کا دینی فریضہ ہےاس کےدکھ درد میں شریک ہونا اس کےلیےایمان کا بنیادی تقاضہ ہے۔ مسلمانوں نےان تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر عالم انسان کو ایک بہترین اسلامی معاشرہ سےآشنا کیا۔ ہمیں آج بھی ان تعلیمات پر پہلےسےکہیں زیادہ عمل کی ضرورت ہے۔

 

ہمیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اللہ کےحضور جواب دہی کے وقت حقوق العباد کی باری پہلےآئےگی جب کہ حقوق اللہ کی باری بعد میں حقوق العباد کےبارےمیں اسلامی تعلیمات کےصاف اور واضح اصولوں کی روشنی میں یہ حقیقت کھل کر سامنےآ جاتی ہےکہ انسانی حقوق کی پاسداری اور ان پر عمل درآمد نہ صرف دین کا تقاضا ہےبلکہ اس راہ پر چلنےوالوں کےلیےبدرجہ عبادت ہے۔

اسلام میں عبادات ، معاملات ، حقوق و فرائض ، اقتصاد و معیشت اور تعلیم و معاشرت کا بھرپور سلسلہ اپنی تمام تر تابناکیوں سمیت میسر ہے۔ اسلام کےہاں عبادت کا تصور بہت وسعت لیےہوئےہے۔ اس میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی تقسیم ہے۔ انفرادی اور اجتماعی عبادت بھی ہےغرضیکہ زندگی کےمختلف دائروں میں رہتےہوئےہر جائز کام اگر ذات باری تعالیٰ پر ایمان و یقین انفرادی و اجتماعی دنیا اور اخروی فوائد کےحصول کی نیت سےادا کیا جائےتو وہ عبادت ہی کےزمرہ میں شمار ہوتا ہے۔ ہمیں ہر کام میں یہی اصول سامنے رکھ کر اپنےروزمرہ کےمعمولات ادا کرنےچاہئیں کہ اسی میں دنیاوی اور اخروی فلاح ہے۔

تحریر : محمد اسلم لودھی  ( کتاب گھر ڈاٹ کام )


متعلقہ تحریریں:

پیغمبر اسلام، ایک ہمہ گیر اور جامع الصفات شخصیت

رسالت پر ایمان لانے کا تقاضا

پیغمبراسلام (ص) آخری نبی