• صارفین کی تعداد :
  • 3477
  • 4/15/2009
  • تاريخ :

عظمت دوجہاں محمد اور انسانی حقوق (حصہ دوم)

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

مسلمانوں کےدلوں اور ذہنوں میں عظمت رسول کا تصور اور اطاعت رسول کا عمل ہی وہ بنیاد ہےجو امت مسلمہ کے ہر فرد کی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہا ہے اور یہ حقیقت بھی ہےمسلمانوں کا یہی جذبہ اور اپنےنبی سےوالہانہ لگاؤ ہے غیر مسلم اقوام کےدلوں میں کانٹا بن کر چبھتا چلا آ رہا ہے۔ غیر مسلم اقوام کسی نہ کسی طریقے سےمختلف حیلوں اور بہانوں سےامت مسلمہ کےافراد کےدلوں میں حب رسول کو کم سےکم کرنےکے درپے رہتی ہیں ۔ تاریخ اس بات کی شہاد ت دیتی ہے۔

 

 دور نہ جائیے گزشتہ چند سالوں کےعالمی واقعات سےصاف معلوم ہوتا ہے کہ آج کےمہذب دور میں بوجود خاتم النبیین ہمارے آقا و رہبر حضرت اور ہمارے دین اسلام کے بارے میں ایک نیا عالمی انسانی اور مذہبی رویہ تخلیق کرنےکی سازش ہو رہی ہے۔ غیر مسلم ذرائع ابلاغ اسلام کےخلاف میڈیائی جارحیت سےمسلح نظر آتے ہیں۔ اغیار کی چالاکیوں کا عمل دخل تو واضح طور پر نظر آتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اپنوں کی کوتاہیوں ، بھول پن جو بھی نظرانداز نہیں  کیا جا سکتا۔

 

اندریں حالات مسلم ممالک کی حکومتوں، دانش مندوں، اہل عمل و فکر اور مقتدر طبقات کی ذمہ داریوں کا یہ برملا تقاضا ہےکہ وہ لیت و لعل کےبغیر حرمت اور عظمت رسول کےلیےسرگرم ہوجائیں اور انسان کامل حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی عزت اور تقدس مآبی پر انگشت نمائی کرنے والوں کے ہوش حکمت اور تدبیر سےٹھکانے پر لانےکا اہتمام کریں اور باز نہ آنےوالوں سےباز پرس کا عملاً بندوبست بھی کریں۔

عالمی سطح پر واضح کیا جائےکہ اسلام ایک مکمل دین ہے۔ اسلام کے ہاں حقوق انسانی کا جس انداز میں خیال رکھا ہےدوسرےمذاہب اور نظریات اور نام نہاد خود ساختہ اصلاحات اس سےعاری دکھائی دیتی ہیں۔

 اور مادر پدر آزادی نہ انسان کا حق ہےاور نہ ہی حیوانوں جیسی آزادی ہےاس کو منزل مقصود حاصل ہوسکتی ہے۔ اسلام سلامتی، خیر خواہی ، محبت اخوت اور امن و سکون کا دین ہے۔ تعلیمات قرآن اور نبی پاک کی سیرت مطہرہ اس کا عملی مظہر ہےذات رسول جسےخالق کائنات نےتمام جہانوں اور سب دنیاؤں کےلیے رحمت قرار دیا ہے، ہی کی سیرت پاک ، وہ بنیادی کلید ہےجو گلوبلائزیشن کےدور سےگزرتی ہوئی انسانیت کےلیے راہبری اور راہنمائی کا کام دےسکتی ہے۔ یہ مہتم بالشان کام اسلامی سربراہی کانفرنس کے پلیٹ فارم سے ہونا چاہئے۔

 

ہم مسلمان ہیں ، ہمارےلیےخوشی غمی اور اپنےجذبات کےاظہار کا ایک طریق کار ہےجو ہمیں تعلیمات اسلام اور ہمارےنبی پاک کےعمل اور اسوہ مبارکہ سےحاصل ہوا ہے۔ اس کا برملا تقاضا ہےکہ امت مسلمہ کو اپنےافکار و اعمال کو پیش کرتےوقت حکمت اور موعظہ حسنہ یعنی بہترین انداز اور طریقہ کو اپنانا ہوگا۔ یہی سنت رسول اور حکم رسول ہے۔

ہمیں یہ جان لینا چاہیےکہ آج علم اور دلیل کی دنیا اور جمہوریت کا دور ہےایسےمیں ہم مسلمانوں کو جوش کےساتھ ساتھ ہوش کی بھی پہلےسےکہیں زیادہ ضرورت ہے۔ نبی اکرم کی ذات گرامی اور اسلامی تعلیمات کو مغرب اور غیر مسلم دنیا کےسامنے پیش کرتے وقت اعلیٰ اسلامی تعلیمات کو اجاگر کرتے رہنا ہوگا۔ آج کا دانشور یہ کہہ رہا ہےکہ انسانی حقوق ، انسانوں کی برابری کا مسئلہ نہیں  ہےبلکہ یہ انسانی برادری اور انسانوں کےمابین تفریق کو ختم کرنےکا مسئلہ ہے۔

                                                                                                                                                       جاری هے

تحریر : محمد اسلم لودھی  ( کتاب گھر ڈاٹ کام )


متعلقہ تحریریں:

پیغمبراسلام (ص) آخری نبی

تلاوت قرآن کی شرائط