• صارفین کی تعداد :
  • 1788
  • 3/17/2009
  • تاريخ :

جہاں میں حالی کسی پہ اپنے سوا بھروسہ 

دوسروں پر بهروسہ

جہاں میں حالی کسی پہ اپنے سوا بھروسہ نہ کیجیے گا
یہ بھید ہے اپنی زندگی کا بس اس کا چرچا نہ کیجیے گا

 

ہو لاکھ غیروں کا غیر کوئی، نہ جاننا اس کو غیر ہر گز

جو اپنا سایہ بھی ہو تو اس کا تصور اپنا نہ کیجیے گا

 

سنا ہے صوفی کا قول ہے یہ کہ ہے طریقت میں کفر دعوٰی

یہ کہہ دو دعوٰی بہت بڑا ہے پھر ایسا دعوٰی نہ کیجیے گا

 

کہے اگر کوئی تم کو واعظ کہ کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہو

زمانہ کی خو ہے نکتہ چینی، کچھ اسکی پرواہ نہ کیجیے گا

 

لگائو تم میں نہ لاگ زاہد، نہ درد الفت کی آگ زاہد

پھر اور کیا کیجیے آخر جو ترک دنیا نہ کیجیے گا

 

شاعر کا نام             : الطاف حسین حالی

ترتیب و پیشکش      : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان