• صارفین کی تعداد :
  • 1550
  • 3/30/2009
  • تاريخ :

یاد آتا  ہے روز و شب کوئی

درخت کی چھاؤں

یاد آتا  ہے روز و شب کوئی
ہم سے روٹھا ہے بے بس کوئی

 

لب جو چھاؤں میں درختوں کی

وہ ملاقات تھی عجب کوئی

 

جب تجھے پہلی بار دیکھا تھا

وہ بھی تھام موسم طرب کوئی

 

کچھ خبر لے کر تیری محفل سے

دور بیٹھا ہے جاں بلب کوئی

 

نہ غم زندگی نہ درد فراق

دل میں یونہی سی ہے طلب کوئی

 

یاد آتی ہیں دور کی باتیں

پیار سے دکھتا ہے جب کوئی

 

چوٹ کھائی ہے بارہا لیکن

آج تو درد ہے عجب کوئی

 

جن کو مٹنا تھا مٹ چکے ناصر

ان کو رسوا کرے نہ اب کوئی

 

شاعر کا نام : ناصر کاظمی

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان