• صارفین کی تعداد :
  • 1621
  • 3/16/2009
  • تاريخ :

یہ طبیعت ہے تو خود آزار بن جائیں گے ہم

لال دل

یہ طبیعت ہے تو خود آزار بن جائیں گے ہم
چارہ گر روئیں گے اور غمخوار بن جائیں گے ہم

 

ہم سرِ چاکِ وفا ہیں اور تیرا دستِ ہنر

جو بنا دے گا ہمیں اے یار بن جائیں گے ہم

 

کیا خبر تھی اے نگارِشعر تیرے عشق میں

دلبرانِ شہر کے دلدار بن جائیں گے ہم

 

سخت جاں ہیں پر ہماری استواری پر نہ جا

ایسے ٹوٹیں گے تیرا اقرار بن جائیں گے ہم

 

اور کچھ دن بیٹھنے دو کوئے جاں میں ہمیں

رفتہ رفتہ سایہء دیوار بن جائیں گے ہم

 

اس قدر آساں نہ ہوگی ہر کسی سے دوستی

آشنائی میں تیرا معیار بن جائیں گے ہم

 

میر و غالب کیا کہ بن پائے نہیں فیض و فراق

زعم یہ تھا رومی و اوتار بن جائیں گے ہم

 

دیکھنے میں شاخِ گل لگتے ہیں لیکن دیکھنا

دستِ گلچیں کے لئے تلوار بن جائیں گے ہم

 

ہم چراغوں کو تو تاریکی سے لڑنا ہے فراز

گل ہوئے پر صبح کے آثار بن جائیں گے ہم

 

شاعر کا نام : احمد فراز

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان