• صارفین کی تعداد :
  • 2277
  • 3/21/2009
  • تاريخ :

چاند

چاند

میرے ویرانے سے کوسوں دُور ہے تیرا وطن

ہے مگر دریائے دل تیری کشش سے موجزن

قصد کس محفل کا ہے؟ آتا ہے کس محفل سے تو؟

زرد رُو شاید ہوا رنجِ رہِ منزل سے تو

آفرینش میں سراپا نور تو، ظلمت ہوں میں

اس سیہ روزی پہ لیکن تیرا ہم قسمت ہوں میں

آہ! میں جلتا ہوں سوزِ اشتیاق دید سے

تو سراپا سوز داغِ منتِ خورشید سے

ایک حلقے پر اگر قائم تری رفتار ہے

میری گردش بھی مثالِ گردشِ پرکار ہے

زندگی کہ رہ میں سرگرداں ہے تو، حیراں ہوں میں

تو فروزاں محفلِ ہستی میں ہے، سوزاں ہوں میں

میں رہِ منزل میں ہوں، تو بھی رہِ منزل میں ہے

تیری محفل میں جو خاموشی ہے، میرے دل میں ہے

تو طلب خو ہے، تو میرا بھی یہی دستور ہے

چاندنی ہے نور تیرا، عشق میرا نور ہے

انجمن ہے ایک میری بھی جہاں رہتا ہوں میں

بزم میں اپنی اگر یکتا ہے تو، تنہا ہوں میں

مہر کا پرتو ترے حق میں ہے پیغامِ اجل

محو کر دیتا ہے مجکو جلوۂ حسنِ ازل

پھربھی اے ماہِ مبیں! میں اور ہوں تو اور ہے

درد جس پہلو سے اٹھتا ہو وہ پہلو اور ہے

گرچہ میں ظلمت سراپا ہوں، سراپا نور تو

سینکڑوں منزل ہے ذوقِ آگہی سے دُور تو

جو مری ہستی کا مقصد ہے مجھے معلوم ہے

یہ چمک وہ ہے، جبیں جس سے تری محروم ہے

 

شاعر کا  نام : علامہ محمد اقبال ( iqbal )

کتاب کا نام : بانگ درا  ( bang e dara )

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان