• صارفین کی تعداد :
  • 7311
  • 3/8/2009
  • تاريخ :

23 مارچ 1940 ء  کی اہمیّت

پاکستان  کا جهنڈا

مارچ 1940 – مسلم لیگ، پاکستان اور برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ کا ایک سنہری دن ہے اس روز برصغیر کے کونے کونے سے ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں نے اپنے قائد محمد علی جناح کی قیادت میں مسلم لیگ کے چونتیسویں سالانہ اجلاس کے موقع پر مسلمانوں کی آزادی اور ایک الگ وطن کے قیام کے لئے قرارداد منظور کی۔ جسے قرارداد لاہور یا قرارداد پاکستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جو 1941 میں نہ صرف مسلم لیگ کے آئین کا حصہ بنی بلکہ اسی کی بنیاد پر سات سال بعد 14 اگست 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آیا۔

آل انڈیا مسلم لیگ کا چو نتیسواں سالانہ اجلاس 22 سے 24 مارچ 1940 کو منٹو پارک میں منعقد ہوا جسے آج کل اقبال پارک کہا جاتا ہے۔
اقبال پارک

قائداعظم محمد علی جناح نے اجلاس کی صدارت کی جس میں نواب سر شاہ نواز ممدوٹ نے استقبالیہ خطبہ دیا اور اے کے فضل الحق نے تاریخ ساز قرارداد لاہور پیش کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے کہا کہ 'ہندوستان کا مسئلہ فرقہ ورانہ نوعیت کا نہیں بلکہ بین الاقوامی ہے اور اس کو اسی لحاظ سے حل کرنا چاہیے جب تک اس اساسی اور بنیادی حقیقت کو پیش نظر نہیں رکھا جائے گا جو دستور بھی بنایا جائے گا وہ چل نہیں سکے گا اور نہ صرف مسلمانوں بلکہ انگریزوں اور ہندووں کے لئے بھی تباہ کن اور مضر ثابت ہو گا۔'

 

 قائد اعظم نے کہا کہ 'لفظ قوم کی ہر تعریف کی رو سے مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں اور اس لحاظ سے ان کا اپنا علیحدہ وطن، اپنا علاقہ اور اپنی مملکت ہونی چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کے کہ آزاد اور خود مختار قوم کی حثیت سے اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن اور ہم آہنگی کے ساتھ زندگی بسر کریں اور اپنی روحانی، ثقافتی، معاشی، معاشرتی اور سیاسی زندگی کو اس طریق پر زیادہ سے زیادہ ترقی دیں جو ہمارے نزدیک بہترین ہو اور ہمارے نصب العین سے ہم آہنگ ہو۔'

قیام پاکستان کے 13 سال بعد قرارداد لاہور کی یاد میں منٹو پارک میں ایک یاد گار بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ مغربی پاکستان کے گورنر اختر حسین نے آزادی کی اس یادگار، مینار پاکستان کا سنگ بنیاد 23 مارچ 1960 کو ایک سادہ سی تقریب میں ٹھیک اسی جگہ رکھا جہاں 1940 میں مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

مینار کی تعمیر کا کام پہلے دو سالوں میں فنڈز کی کمی کی وجہ سے کافی سست رفتاری کا شکار رہا تاہم 1965 میں صوبائی حکومت نے سینما اور ریس ٹکٹس پر ٹیکس لگا کر فنڈز کی کمی کا مسئلہ حل کیا اور 22 مارچ 1968 کو مینار کی تعمیر مکمل ہوئی جس پر کل 5 لاکھ روپے کی لاگت آئی۔

مینار کے ڈیزائن کا کام ایک ترک آرکیٹیکٹ مورات خان کو سونپا گیا جس نے آزادی کی اس 62 میٹر بلند یاد گار کو زمین سے 2 میٹر اونچے چبوترے پر ڈیزائن کیا۔

مینار کے چاروں اطراف پھول کی کھلی پتیوں جیسے 9 میٹر اونچے 10 سٹرکچرز، مینار کے گرد سرخ اور سبز پتھر سے بنائے گئے دو چاند نما تالاب، پانچ کونی ستارے سے مشاہبہ چبوترا اور چاروں اطراف پھیلے سبز باغیچے مینار کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتا ہے۔ مینار کا قطر تقریباً ساڑھے 97 میٹر ہے جس کے درمیان مینار پر چڑھنے کے لئے سیڑھیاں اور لفٹ نصب کی گئی ہے۔

 مینار کی تعمیر میں کنکریٹ، پتھر اور سنگ مرمر کا استعمال کیا گیا ہے مینار کا فرنٹ بادشاہی مسجد کی طرف ہے جس کے کے اطراف چار چبوترے بنائے گئے ہیں۔ پہلا چبوترا بغیر تراشے سنگ ٹیکسلا کے پتھر سے بنایا گیا ہے جو آزادی کی جدوجہد کو ظاہر کرتا ہے، دوسرا چبوترا ہتھوڑی سے تراش ناہموار پتھر سے اور تیسرا چبوترا ہموار پتھر سے جب کہ چوتھا چبوترا پولشڈ سفید پتھر سے بنایا گیا ہے جو تحریک پاکستان کی کامیابی کی علامت ہے۔ مینار کے نیچے محرابی سٹرکچر میں سفید سنگ مرمر پر قرارداد لاہور اور قرارداد دہلی کی عبارات اردو، بنگالی اور انگریزی زبان میں کندہ ہیں۔

 اس کے علاوہ اللہ تعالی کے 99 صفاتی نام، عربی کیلی گرافی، علامہ اقبال کے چند اشعار اور پاکستان کا قومی ترانہ بھی سفید سنگ مرمر پر کندہ کیا گیا ہے۔

آج سے اڑسٹھ برس قبل اسی جگہ قائد اعظم محمد علی جناح نے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا تھا جس کے نتیجے میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سر زمین کو قائد کا پاکستان بنانے کے لئے مل کر بھرپور کوشش کی جائے۔

کیمرہ می نعمران عدنان، نیوز ون، لاہور۔