• صارفین کی تعداد :
  • 1966
  • 3/3/2009
  • تاريخ :

پھر وہ کیمپس کی فضا ہو ،شام ہو

پنجاب یونیورسٹی کی عمارت

پھر وہ کیمپس کی فضا ہو ،شام ہو
ہاتھ ہاتھوں میں ترا ہو ، شام ہو

 

خوف آتا ہے مجھے اس وقت سے

راستہ نہ مل رہا ہو ، شام ہو

 

کس قدر بے کیف گزرے گی وہ شام

تو مجھے بھولا ہوا ہو شام ہو

 

کیوں نہ شدت سے مجھے یاد آۓ گاؤں

شہر کا بنجر پنا ہو ،شام ہو

 

ہو رہی  ہو تیری تصویروں  سے بات

تیرا خط کھولا ہوا ہو ، شام ہو

 

سردیاں ، بارش ، ہوا ، چاۓ کا کپ

وہ مجھے یاد آ رہا ہو ، شام ہو

 

درد و غم کی دھند میں لپٹا ہوا

قافلہ سا حل پڑا ہو ، شام ہو

 

اک یہی خواہش نہ پوری ہو سکی

تو کلیجے سے لگا ہو ،شام ہو

 

شاعر کا نام : وصی شاہ

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان