• صارفین کی تعداد :
  • 3600
  • 3/2/2009
  • تاريخ :

سورہ یوسف ۔ع ۔ 25 ویں  آیت کی تفسیر

بسم الله الرحمن الرحیم

بسم اللہ الرّحمن الرّحیم

سورۂ یوسف کی پچیسویں آیت میں  خدا فرماتا ہے :

" واستبقا الباب و قدّت قمیصہ من دبروّ الفیا سیّدھا لدالباب ، قالت ماجزاء من اراد باہلک سوء الّا ان یّسجن او عذاب الیم ۔"


یعنی ( یوسف اور عزیز مصر کی بیوی ) دونوں نے در کی طرف دوڑ لگائی اور اس عورت نے یوسف کا پیراہن پیچھے سے ( کھینچ کر) پارہ کر دیا ( در کھلا تو انہوں نے ) اس عورت کے شوہر کو دروازہ پر (کھڑا) پایا اس عورت نے ( خود کو شوہر کی مشکوک نگاہوں سے بری کرنے کے لئے ) کہا : جو شخص آپ کی بیوی کے لئے بری نیت رکھتا ہو اس کی سزا کیا ہو سکتی ہے ؟ سوائے اس کے کہ جیل میں ڈال دیا جائے یا سخت شکنجے میں رکھا جائے ۔

ہم نے عرض کیا تھا عزیز مصر کی بیوی زلیخا حسن یوسف (ع) پر فریفتہ ہوگئی اور اپنی ہوس مٹانے کے لئے اس نے ڈورے ڈالے اور پھر موقع دیکھ کر کمرے کے دروازے بند کردئے اور حضرت یوسف (ع) کو برائی کی دعوت دی مگر جناب یوسف (ع) نے خدائے واحد پر اپنے ایمان و یقین کے سبب زلیخا کی دعوت کو نظر انداز کرکے دروازے کی طرف دوڑ لگائي اور آیت کے مطابق ان کے پیچھے عزيز مصر کی بیوی نے بھی بھاگ کر ان کا دامن پیچھے سے پکڑکر پارہ کردیا، یوسف (ع) نے جو دروازے کے قریب پہنچ چکے تھے دروازہ کھولا تو سامنے عزیز مصر کو کھڑا پایا اور قبل اس کے کہ عزيز مصر کوئی سوال کرے، زلیخا نے ، اس صورت حال سے گھبرا کر خود کو گناہ سے بری ثابت کرنے کے لئے اپنی معصومیت کا بزدلانہ حربہ استعمال کیا اور یوسف (ع) پر تمام الزام تھوپتے ہوئے خود عزیز مصر سے سوال کرلیا کہ تمہاری بیوی کے سلسلے میں اگر کوئی شخص بری نیت رکھتا ہو تو اس کی سزا اس کے سوا کیا ہوسکتی ہے کہ اس کو قید کردیا جائے یا شکنجہ ؤ اذیت میں مبتلا کردیا جائے  " چوری اور سینہ زوری " اسی کو کہتے ہیں اپنا جرم دوسرے کے سرمنڈھ کر سزا بھی سنادی شاید مفسرین کا یہ پرانا طریقہ ہے کہ " بڑے لوگ اپنے جرائم کمزوروں پر لگا کر سزا بھی سنانا شروع کردیتے ہیں ۔

                        اردو ریڈیو تہران