• صارفین کی تعداد :
  • 1994
  • 2/4/2009
  • تاريخ :

کرفيو آرڈر (حصہ اول)

lahor in old time

لاہورکی راتوں پرکرفیوآرڈر کی حکومت تھی۔ رات کے آٹھ بجے سے لیکر صبح پانچ بجے تک کوئی متنفّس گھر سے باہر نہیں نکل سکتا تھا۔ البتہ سرکاری اور اخباری کارکنوں کو کرفیو  پاس مل گئے تھے تا کہ وہ اپنے اپنے شبانہ فرائض انجام دے کر گھر پہنچ سکیں۔ رات کے دو بجے تھے۔ چاروں طرف خاموشی اور سکومت کی حکمرانی تھی۔ اخبار ”جمہور“ کانائٹ ایڈیٹر سلیم کرفیو پاس جیب میں ڈالے تیزقدم اُٹھاتاہؤا اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا۔ وہ شیر انوالہ دروازہ سے نکل کر سرکُلرروڈ پرریلوے لائن کے ساتھ ساتھ چل رہاتھا۔ سڑک سنسان اور ریلوے لائن ویران تھی۔ اُس کے دائیں طرف سرکُلرگارڈن کے عظیم الشّان  درخت چاندنی میں بھوتوں کے مہیب اور ساکت سایوں کی طرح نظرآرہے تھے۔ 

 

” کرفیوآرڈر۔۔۔۔۔۔ پولیس ۔۔۔۔۔۔ فوج۔۔۔۔۔۔ عدالتیں۔۔۔۔۔۔ اورحکومت۔۔۔۔۔۔ بیوی اِن سب سے زیادہ قيمتي چیز ہے۔ “اِس خیال کے آتے ہی وہ مسکرادیا۔ اُس کے قدموں میں زیادہ تیزی۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اُس کے بازوؤں میں زیادہ حرکت پیدا ہوگئی۔۔۔۔۔۔ اُس کی شادی کو صرف چند روز گذرے تھے اور شادی کی پہلی رات کے بعداُس کی بیوی آج پہلی مرتبہ اُس کےگھرآئی تھی۔۔۔۔۔۔ جس کا اشتیاق اُسے کشاں کشاں گھر کی طرف کھينچےلیےجارہاتھا۔ نئی نئی بیوی اورنیانیا بستر۔اُس کےدل و دماغ میں بساہؤاتھا۔۔۔۔۔۔ یکایک فضا سے لباسِ عروسی کی خوشبو آئی اور اُس کی بیوی کی حسین و مخمور آنکھیں اُس کی شوق بھری آنکھوں میں پِھر گئیں۔ اُس کے قدم تیز ہوگئے۔۔۔۔۔۔وہ جلد۔۔۔۔ بہت ہی جلد گھر پہنچ جانا چاہتاتھا۔

 

وہ گوروں کی پہلی چوکی کو بائیں طرف چھوڑتاہؤا کوتوالی کے قریب پہنچا جس کے بعض بالائی کمروں سے روشنی نظر آرہی تھی۔ تمام شہر پر سنّاٹا چھا رہا تھا۔ دُنیا خوابیدہ تھی۔البتّہ پولیس اور فوج بیدار تھی۔ کتّوں کے بھونکنے کی آواز بھی آج خاموش تھی۔”شایدکتّےبھی حکومت سے ڈرتےہیں۔“سلیم سوچ رہاتھا۔اکبری دروازہ کی طرف سے پولیس کے سواروں کا ایک دستہ آتاہؤا نظرآیا۔ اُن کے قوی ہیکل گھوڑوں کی خوفناک ٹاپیں چارسُو چھائےہوئے سکوت کے عالم میں تزلزل پیداکر رہی تھیں۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے سنسان جنگل میں بادل گرج رہاہے۔ بائیں طرف کی عمارتوں نے چاند کی ہلکی ہلکی سفید کرنوں کو چُھپالیاتھا۔ سڑک پر عمارتوں کےسائے اور دائیں طرف باغ کے درخت عظیم الجثّہ دیوؤں کی طرح چھائے ہوئے تھے۔ دفعتا ًہوا میں دُھندلکا چھاگیا۔جیسےکسی بادل کے ٹکڑے نےچاندکوچُھپا لیاہو۔ چاندکےتصوّرکےساتھ ہی ایک اورچانداُس کی نظروں کےسامنےآگیا۔وہ چاندساچہرہ جواطلس وکمخواب کےایک حسین ونازنیں مجسّمے کی شکل میں اِس وقت اُس کےکمرے میں موجودہوگا۔بیوی کےاشتیاق نےاُس کےپرلگاديئےاوروہ اُس سست رفتاری کوچھوڑکرجو سواروں کی آمدکا نتیجہ تھی،از سرِنو تیزقدم اُٹھانےلگا۔ اِس حال میں کہ بیوی کا تصوّر اُس کے دل و دماغ پر نشے کی طرح چھایاہؤاتھا۔

 

سوار اُس کے قریب آگئے۔ گھوڑوں کی ٹاپوں کی تیز اور  پُرشور آوازوں نے اُس کے تصوّرات کے تمام حسین و رنگین گھروندےکو پامال کردیا اور اُس کی جگہ ایک ہلکے سے خوف نے لےلی۔فرض کرو وہ اپنا پاس دفتر ہی میں بھول آیاہو! اور یہ سوار پوچھ بیٹھیں تو کیسی بنے؟ اِس خیال کے آتے ہی اُس کا دایاں ہاتھ بے اختیار اُس کے سینے کی بائیں جیب کی طرف بڑھا ایک سخت کاغذ کے ٹکڑے کی موجودگی نے اُس کے لبوں پر اطمینان کی مسکراہٹ پيدا کردی۔وہ پھر تیزی سے چلنے لگا۔ مگر ابھی چارقدم چلاہوگا کہ پھر رُ کا۔۔۔۔ اگر کرفیوپاس کےباوجود یہ سوار اُسے کوتوالی میں لے جائیں،اُس کے پاس کو چھین لیں۔یا تسلیم نہ کریں اور اُسے تمام رات حوالات میں رہنا پڑے تو۔۔۔۔؟ کتنا خوفناک خیال تھا! خوفناک اور تکلیف دہ! اپنی نئی نویلی بیوی سے دُور اپنے اطلسی اور مخملی بستر سے دور، اپنی آرام دہ اور شاندار مسہری سے دور،اپنے آراستہ و پیراستہ کمرے سے دُور۔۔۔۔ رات بھر دُور رہنا۔۔۔۔! اُس کمرے سے جو چندہی روزہوئے جہیز کے سامان سے مزیّن ہؤا تھا۔۔۔۔!اُس کی پیشانی پربل پڑگئے۔اُس کی گردن جھک گئی۔اُس کی رفتار میں اضمحلال پیداہوگیا۔۔۔۔ ایسی حالت میں وہ کیا کر سکتا تھا؟ پولیس۔۔۔۔ اور۔۔۔۔ فوج کے مقابلے میں وہ کرہی کیا سکتا تھا؟اِس حالت میں پہنچ کر معلوم ہوتاہے کہ انسان کتنا مجبور ہے۔ کس قدر مظلوم ہے! کس درجہ بےبس ہے!

 

مجبوری،مظلومیت اور بےبسی کے احساس نے اُسے غضب ناک کردیا، نہیں، نہیں، وہ حوالات میں رات نہیں گزارسکتا!وہ کسی طر ح اپنے گھر سے دور نہیں رہ سکتا! اُسے دنیا کی کوئی طاقت گھر پہنچنے سے نہیں روک سکتی! وہ ہر حالت میں اپنے گھر جائے گا! وہ بہر صورت اپنے کمرے میں سوئے گا۔ اپنی لاڈلی بیوی کے ساتھ اُس کے مشکبو کاکلوں کی چھاؤں میں! اُس کے مخملیں جسم کے قریب! اُس کے ریشمیں بالوں کی خوشبو سےلپٹ کر، اُس کے مرمریں بدن کےگداز میں ڈوب کر۔۔۔۔!ایک ابدی مسرّت اور ابدی بے خودی میں محو ہوکر!

تخیّل وتصوّر کی سرخوشی نے اُس کے غیظ و غضب کو کچھ کم کیا اور وہ پھر تیزتیز چلنےلگا۔ ”یہ سوار مجھے روکیں گے؟“ سواروں کے قریب سے گذرتے ہوئے اُس نے پھر غرور آمیز انداز میں سوچا ۔”نہیں نہیں۔ میں نہیں رک سکتا۔ چاہے کچھ بھی ہو!“ ہاں چاہے تمام دستہ اُسے گھیرلے! چاہے ڈپٹی کمشنر معہ اپنے تمام اختیارات کے وہاں کیوں نہ آجائے؟ وہ نہیں رک سکتا! اُس کی گردن تن گئی۔ اُس کے قدموں میں بجلی کی سی تیزی پیدا ہوگئی۔ یہاں تک کہ سواروں کا دستہ چپ چاپ اُس کے قریپ سے گزرگیا ۔ اُسے کسی نے نہیں روکا۔
                                                                                                                                                            جاری هے

تحریر : اختر شیرانی