• صارفین کی تعداد :
  • 4934
  • 2/5/2009
  • تاريخ :

اُس سے کہہ دوں گا 

(لطیفہ)

درویش

شہر لاہور میں  عجب خاں   نام
فاقہ کر تا تھا دو دو وقت غریب
شہر میں تھے امیر  جتنے  لوگ
پڑھتا لاحول،  سامنے  جس   کے
اسی حالت میں مد تیں  گزریں
گھر کے آنگن میں اک دفینہ ملا
اب عجب خاں امیر تھا  بے  حد
عمر بھر ختم ہو  نہ  سکتی  تھی
اس   کے  سارے  امیر   ہمسائے
میں، صرف ایک دن میں سو سوبار
جب و ہ کرتے کبھی  سلام  اسے
"بہت اچھامیں اس سے کہہ دوں گا"
سن کے اپنے سلام کا  یہ   جواب
"اس سے کہہ دوں گا"کے جو ا ب پہ وہ
آخر اک روز باتوں  باتوں   میں
"اس سے کہہ دوں گا"ہے کہا ں کا سلام
ہم کو دیتا نہیں   جو اب   کوئی
ہے سلاموں کا  یہ   جواب   نیا
مسکر ا کر کہا عجب خاں  نے
میرا لیتے نہ تھے  سلام    کبھی
اب   جو اللہ   کی   عنایت  سے
تم سے  مغرور  ہو گئے  سیدھے
اب جو سب کرتے ہیں سلام مجھے
میری دولت کو کرتے ہیں وہ سلام
اس لئے میں جواب میں سب کے
یعنی گھر جا کے اپنی دولت کو
اک بہت ہی غریب انساں تھا
مفلس اور بد نصیب انساں  تھا
کوئی لیتا نہ تھا  سلام  اس   کا
کوئی لے  دیتا  آکے  نام  اس  کا
ایک دن اس کو خوش نصیبی سے
جس  نے  چھڑوا  دیا  غریبی  سے
اب عجب خاں کے پاس دولت تھی
اس کی دولت کی اتنی کثرت تھی
اب   ادب   سے   کلام   کرنے  لگے
اس کو جھک کر سلام  کرنے  لگے
یوں  عجب خاں  جو اب  میں  کہتا
اور  کچھ  وہ نہ   کہتا   چپ  رہتا
شہر   کے  سب  امیر   حیراں  تھے
دل ہی دل میں  بہت  پریشاں  تھے
پوچھا اک شخص نے عجب خاں سے
پوچھ دیکھا   ہر  اک  مسلماں  سے
اس  کا مطلب  تمہی   بتاؤ   ہمیں
اس میں  جو بھید ہے سجھاؤ  ہمیں
جب میں مفلس تھا اور غریب انساں
تم سے مغرور خوش  نصیب  انساں
مجھ   کو   اتنا   بڑا   خزانہ   ملا
اور   سلاموں کا  اک  بہانہ   ملا
سچ یہ  ہے  یہ  مجھے   سلام   نہیں
اس  میں واللہ   کچھ  کلام   نہیں
کہتا ہوں یہ  پیام  کہہ  دوں  گا
آپ کا یہ   سلام   کہہ   دوں  گا

 

کتاب کا نام  :   پھولوں کے گیت

شاعر کا نام   :     اختر شیرانی

              پیشکش :   شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان