• صارفین کی تعداد :
  • 5421
  • 2/2/2009
  • تاريخ :

حضرت امام موسی کاظم (ع) ہارون رشید کی  قید میں

حضرت امام موسی کاظم (ع)

جب حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نےفرائض امامت سنبھالے اس وقت عباسی خلیفہ منصوردوانقی بادشاہ تھا یہ وہی ظالم بادشاہ تھا جس کے ہاتھوں بے شمارسادات مظالم کانشانہ بن چکے تھے سادات زندہ دیواروں میں چنوائے گئے یاقید رکھے گئے تھے۔

تاریخ اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ   148ھ میں امام جعفرصادق علیہ السلام کی وفات ہوئی، اس وقت سے حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام بذات خودفرائض امامت کے ذمہ دارہوئے اس وقت سلطنت عباسیہ کے تخت پرمنصوردوانقی بادشاہ تھا یہ وہی ظالم بادشاہ تھا جس کے ہاتھوں بے شمارسادات مظالم کانشانہ بن چکے تھے تلوارکے گھاٹ اتارے گئے دیواروں میں چنوائے گئے یاقیدرکھے گئے ،خودامام جعفرصادق علیہ السلام کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کی جاچکی تھیں اورمختلف صورت سے تکلیفیں پہنچائی گئی تھی، یہاں تک کہ منصورہی کابھیجاہوازہرتھا جس سے آپ دنیاسے رخصت ہوئے تھے۔

 

 ان حالات میں آپ کواپنے جانشین کے متعلق یہ قطعی اندیشہ تھا کہ حکومت وقت اسے زندہ نہ رہنے دے گی اس لیے آپ نے آخری وقت اخلاقی بوجھ حکومت کے کندھوں پررکھ دینے کے لیے یہ صورت اختیارفرمائی،کہ اپنی جائیداداورگھربارکے انتظامات کے لیے پانچ افراد کی ایک جماعت مقررفرمائی جس میں پہلاشخص خود خلیفہ وقت منصورعباسی تھا، اس کے علاوہ محمد بن سلیمان حاکم مدینہ، اور عبداللہ افطح جوامام موسی کاظم کے سن میں بڑے بھائی تھے ،اورحضرت امام موسی کاظم اوران کی والدہ معظمہ حمیدہ خاتون۔

حضرت امام موسی کاظم (ع)

   حضرت امام جعفر صادق کا اندیشہ بالکل صحیح تھا،اورآپ کا تحفظ بھی کامیاب ثابت ہوا، چنانچہ جب حضرت کی وفات کی اطلاح منصورکو پہنچی تو اس نے پہلے تو سیاسی مصلحت سے اظہاررنج کیا،تین مرتبہ اناللہ واناالیہ راجعون کہا اورکہا کہ اب بھلا جعفرکامثل کون ہے؟ اس کے بعدحاکم مدینہ کولکھاکہ اگرجعفرصادق(ع) نے کسی شخص کواپنا وصی مقررکیاہوتواس کا سر فورا قلم کردو، حاکم مدینہ نے جواب میں لکھا کہ انہوں نے تو پانچ وصی مقرر کئے ہیں جن میں سے پہلے آپ خود ہیں، یہ جواب سن کر منصور دیر تک خاموش رہا اور سوچنے کے بعد کہنے لگا کہ اس صورت میں تو یہ لوگ قتل نہیں کئے جا سکتے اس کے بعد دس برس منصور زندہ رہا، لیکن امام موسی کاظم علیہ السلام سے کوئی تعرض نہ کیا، اور آپ مذہبی فرائض کی انجام دہی میں امن و سکون کے ساتھ مصروف رہے یہ بھی تھا کہ اس زمانہ میں منصور شہر بغداد کی تعمیر میں مصروف تھا جس سے 157ھ  یعنی اپنی موت سے صرف ایک سال پہلے اسے فراغت ہوئی، اس لیے وہ امام موسی کاظم (ع) کے  متعلق کسی ایذا رسانی کی طرف متوجہ نہیں ہوا لیکن اس عہد سے  قبل  وہ سادات کشی میں کمال دکھا چکا تھا۔

 

     علامہ مقریزی لکھتے ہیں کہ منصورکے زمانے میں بے انتہا سادات شہید کئے گئے ہیں اور جو بچے ہیں وہ  وطن چھوڑکر بھاگ گئے ہیں انہیں تارکین وطن میں ہاشم بن ابراہیم بن اسماعیل الدیباج بن ابراہیم عمربن الحسن المثنی ابن امام حسن بھی تھے جنہوں نے ملتان کو علاقوں میں سے مقام”خان“ میں سکونت اختیارکرلی تھی

(النزاع والتخاصم ص  47طبع مصر)

     158ھ کے آخرمیں منصور دوانقی دنیا سے رخصت ہوا، اور اس کا بیٹا مہدی تخت سلطنت پربیٹھا، شروع میں تواس نے بھی امام موسی کاظم علیہ السلام کی عزت و احترام کے خلاف کوئی تعرض نہیں کیا مگر چند سال بعد پھر وہی بنی فاطمہ (س) کی مخالفت کا جذبہ ابھرا اور  164ھ میں جب وہ حج کے نام سے حجازکی طرف گیا تو امام موسی کاظم علیہ السلام کو اپنے ساتھ مکہ سے بغداد لے گیا اور قید کر دیا ایک سال تک حضرت اس کی قید میں رہے پھر اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور حضرت کو مدینہ واپس بھجوا دیا۔

     مہدی کے بعداس کابھائی ہادی 169ھ میں تخت سلطنت پربیٹھا اورصرف ایک سال ایک ماہ تک اس نے سلطنت کی ، اس کے بعدہارون الرشیدکازمانہ آیاجس میں امام موسی کاظم علیہ السلام کوآزادی کی سانس لینانصیب نہیں ہوئی (سوانح امام موسی کاظم ص 5) ۔

 علامہ طبرسی تحریرفرماتے ہیں کہ جب آپ درجہ امامت پرفائزہوئے اس وقت آپ کی عمربیس سال کی تھی

(اعلام الوری ص 171) ۔

https://www.mehrnews.com