• صارفین کی تعداد :
  • 5388
  • 2/2/2009
  • تاريخ :

امام موسی کاظم علیہ السلام اورعلی بن یقطین بغدادی

امام موسی کاظم علیہ السلام

قیدخانہ رشید سے چھوٹنے کے بعد حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام مدینہ منورہ پہنچے اوربدستوراپنے فرائض امامت کی ادائیگی میں مشغول ہوگئے، آپ چونکہ امام زمانہ تھے اس لیے آپ کو زمانہ کے تمام حوادث کی اطلاع تھی ۔

  ایک مرتبہ ہارون رشید نے علی بن یقطین بن موسی کوفی بغدادی کہ جو کہ امام موسی کاظم علیہ السلام کے خاص ماننے والے تھے اور اپنی کارکردگی کی وجہ سے ہارون رشید کے مقربین میں سے تھے، بہت سی چیزیں دیں جن میں خلعت فاخرہ اور ایک بہت عمدہ قسم کا سیاہ زربفت کا بنا ہوا چغہ تھا جس پر سونے کے تاروں سے پھول کڑھے ہوئے تھے اورجسے صرف خلفاء اور بادشاہ پہنا کرتے تھے علی ین یقطین نے از راہ تقرب و عقیدت اس سامان میں اوربہت سی چیزوں کا اضافہ کرکے حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی خدمت میں بھیج دیا آپ نے ان کا ہدیہ قبول کر   لیا، لیکن اس میں سے اس لباس مخصوص کو واپس کردیا جو زربفت کا بنا ہوا تھا اور فرمایا کہ اسے اپنے پاس رکھو، یہ تمہارے اس وقت کام آئے گا جب”جان جوکھم“ میں پڑی ہوگی انہوں نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ امام نہ جانے کس واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا ہو اسے اپنے پاس رکھ لیا تھوڑے دنوں کے بعد ابن یقطین اپنے ایک غلام سے ناراض ہوگئے اور اسے اپنے گھر سے نکال دیا اس نے جاکر رشید خلیفہ سے ان کی چغلی کھائی اور کہا کہ آپ نے جس قدر خلعت و غیرہ انہیں دی ہے انہوں نے سب کا سب امام موسی کاظم علیہ السلام کو دیدیا ہے، اور چونکہ وہ شیعہ ہیں، اس لیے امام کو بہت مانتے ہیں، بادشاہ نے جونہی یہ بات سنی، وہ آگ بگولہ ہوگیااوراس نے فوراسپاہیوں کوحکم دیا کہ علی بن یقطین کواسی حالت میں گرفتارکرلائیں جس حال میں ہوہوں ،الغرض ابن یقطین لائے گئے ،بادشاہ نے پوچھامیرادیا ہواچغہ کہاں ہے؟

  انہوں نے کہا بادشاہ میرے پاس ہے اس نے کہامیں دیکھناچاہتاہوں اورسنو! اگرتم اس وقت اسے نہ دیکھاسکے تومیں تمہاری گردن ماردوں گا، انہوں نے کہابادشاہ میں ابھی پیش کرتاہوں، یہ کہہ کرانہوں نے ایک شخص سے کہاکہ میرے مکان میں جاکرمیرے فلاں کمرہ سے میراصندوق اٹھالا، جب وہ بتایاہواصندوق لے آیاتوآپ نے اس کی مہرتوڑی اورچغانکال کراس کے سامنے رکھ دیا، جب بادشاہ نے اپنی آنکھوں سے چغہ دیکھ لیا،تواس کاغصہ ٹھنڈاہوا، اورخوش ہوکرکہنے لگا، کہ اب میں تمہارے بارے میں کسی کی کوئی بات نہ مانوں گا-

(شواہد النبوت ص ۱۹۴) ۔

  علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ پھراس کے بعدرشیدنے اوربہت ساعطیہ دے کرانہیں عزت واحترام کے ساتھ واپس کردیا اورحکم دیاکہ چغلی کرنے والے کوایک ہزارکوڑے لگائے جائیں چنانچہ جلادوں نے مارناشروع کیااوروہ پانچ سوکوڑے کھاکرمرگیا-

(بحارالانوار ص ۱۳۰) ۔

/www.shahroudi.net