• صارفین کی تعداد :
  • 3153
  • 1/25/2009
  • تاريخ :

پیغمبر (ص) امامت کو الٰہی منصب سمجھتے ہیں

بسم الله الرحمن الرحیم

اس میں کوئی کلام نہیں ہے کہ امت کی رہبری کا مسئلہ مسلمان معاشرہ کے لئے اساسی اور حیاتی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ اسی مسئلہ پر اختلاف پیدا ہوا اور اس نے امت کو دو حصوں میں تقسیم کرکے ان کے درمیان گہرا اختلاف پیدا کردیا ۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے تمام چیزوں کے بارے میں واجب، مستحب ،حرام و مکروہ سے متعلق تو ساری باتیں بیان فرمائیں لیکن امت کی قیادت و رہبری اور حاکم کی خصوصیات سے متعلق کوئی بات کیوں بیان نہیں کی؟ کیا انسان یہ سوچ سکتا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے اتنے اہم موضوع پر کوئی توجہ نہ دی ہوگی بلکہ خاموشی اختیار کی ہوگی اور امت کو بیدار نہ کیا ہوگا؟!

 

علمائے اہل سنت فرماتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص)نے قیادت وامامت کے طریقہ کے سلسلہ میں نفیاًو اثباتاً کوئی بات نہیں بیان کی اور یہ واضح نہیں کیا کہ قیادت و رہبری کا مسئلہ انتخابی ہے یا تعیینی ہے۔

سچ مچ کیا عقل باور کرتی ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے اس انتہائی اہم اور حیاتی مسئلہ پر خاموشی اختیار کی ہوگی اور قضیہ کے ان دونوں پہلوں سے متعلق کوئی اشارہ نہ کیا ہوگا؟

 

عقل کے فیصلہ سے آگے بڑھ کر تاریخ اسلام کا جائزہ بھی اس نظریہ کے خلاف گواہی دیتا ہے ۔اور یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) نے مختلف موقعوں پر یہ یاد دہانی کی ہے کہ میرے بعد امت کی قیادت و رہبری کا مسئلہ خدا سے مربوط ہے اور وہ اس سلسلہ میں کوئی اختیار نہیں رکھتے ۔ یہاں ہم تاریخ اسلام سے چند نمونے پیش کرتے ہیں :

جب مشرکوں کے ایک قبیلہ کے سردار ”اخنس“ نے اس شرط پر پیغمبر اسلام (ص)کی حمایت کا اظہارکیا کہ اپنے کے بعد امت کی قیادت و سرپرستی آپ(ص) ہمارے حوالے کر جائیں گے تو پیغمبر اسلام (ص) نے اسے جواب دیا کہ” الا مر الیٰ اللہ یضعہ حیث یشاء “یعنی امت کی قیادت کا مسئلہ خدا سے مربوط ہے وہ جسے بہتر سمجھے اس امر کے لئے منتخب کرے گا ۔ قبیلہ کا سردار یہ بات سن کر مایوس ہو گیا اور اس نے آنحضرت (ص)کے جواب میں کہلایا کہ یہ بات بالکل درست نہیں ہے کہ رنج و زحمت میں اٹھاؤں اور قیادت و رہبری کسی اور کو ملے!

تاریخ اسلام میں یہ واقعہ بھی ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے ”یمامہ“ کے حاکم کو خط لکھ کر اسے اسلام کی دعوت دی اس نے بھی ”اخنس “ کے مانند آنحضرت (ص)سے آپ(ص) کی جانشینی کا تقاضا کیا تو آنحضرت (ص) نے اسے انکار میں جواب دیتے ہوئے فرمایا:”لا ولاکرامۃ“ یعنی یہ کام عزت نفس اور روح کی بلندی سے بعید ہے۔

 

امت کی قیادت و رہبری کا مسئلہ اتنا اہم ہے کہ اس کی اہمیت کو صرف ہم ہی نے محسوس نہیں کیا ہے بلکہ صدر اسلام میں بھی یہ مسئلہ بہت سے لوگوں کی نظر میں بڑی اہمیت رکھتا تھا ۔ مثلا جس وقت خلیفہ دوم ،ابو لوٴ لوٴ کی ضرب سے زخمی ہوئے اور ان کے بیٹے عبداللہ بن عمر نے اپنے باپ کو مرتے ہوئے دیکھا تو اپنے باپ سے کہا جتنی جلدی ہو سکے اپنا ایک جانشین معین کیجئے اور امت محمدی (ص) کو بے حاکم وبے سر پرست نہ چھوڑئے ۔

بالکل یہی پیغام ام الموٴمنین عائشہ نے بھی خلیفہ دوم کو کہلایا اور ان سے درخواست کی کہ امت محمدی کے لئے ایک محافظ و نگہبان معین کر جائیں۔اب کیا یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ان دو شخصیتوں نے امت کی قیادت و رہبری کے مسئلہ کی اہمیت کو تو اچھی طرح محسوس کر لیا تھا لیکن رسول اسلام (ص)ان دو افراد کے بقدر بھی اس مسئلہ کی اہمیت کو سمجھ نہیں پائے تھے ؟!

 

پیغمبر اسلام (ص)کی مدینہ کی دس سالہ زندگی کا ایک ہلکا سا جائزہ لینے کے ساتھ ہی یہ بات پوری طرح ثابت ہو جاتی ہے کہ آنحضرت (ص) جب بھی کہیں جانے کے لئے مدینہ سے نکلتے تھے کسی نہ کسی کو مدینہ میں اپنا جانشین معین کر جاتے تھے ،تاکہ اس مختصر سی مدت میں بھی جب پیغمبر اکرم (ص) مدینہ میں تشریف نہیں رکھتے لوگ بے سر پرست اور بے پناہ نہ رہیں ۔ کیا یہ بہتر ہے کہ جو جانشین معین کرنے کی اہمیت سے آگاہ ہو اور یہ جانتا ہو کہ حتّٰی مختصر مدت کے لئے بھی جانشین معین کئے بغیر مدینہ کو ترک نہیں کرنا چاہئے ۔ وہ دنیا کو ترک کرے اور اپنا کوئی جانشین معین نہ کرے یا کم از کم قیادت و رہبری کی شکل ونوعیت اور حاکمیت کے طریقہ ٴ کار کے بارے میں کچھ نہ کہے ؟!

 

پیغمبر اسلام (ص)جب کسی علاقہ کو فتح بھی کرتے تھے تو اسے ترک کرنے سے پہلے وہاں ایک حاکم معین فرماتے تھے پھر ان حالات میں یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) نے اپنا جانشین معین کرنے میں غفلت سے کام لیا ہوگا اور اس کے لئے میں کوئی فکر نہ کی ہوگی ،جو ان کے بعد امت کی قیادت و رہبری اپنے ہاتھ میں لے سکے اور اسلام کے نو پا درخت کی نگہبانی و سرپرستی کر سکے؟!

                                                   

کتاب کا نام   امت کی رہبری
مولف  آیۃ اللہ جعفر سبحانی
مترجم سید احتشام عباس زیدی
 ناشر مجمع جہانی اہل بیت (ع)

 

 پیشکش مہدی (عج) مشن


متعلقہ تحریریں:

 امامت کے بارے میں مکتب خلفاء کا نظریہ اور استدلال

 مسئلہ امامت فروع دین میں سے ہے نہ کہ اصول دین میں سے