• صارفین کی تعداد :
  • 2149
  • 1/11/2009
  • تاريخ :

دل

heart

قصۂ دار و رسن بازیٔ طفلانہ دِل

التجائے '' اَرِنیِ'' سرخیٔ افسانۂ دل

یارب! اس ساغرِ لبریز کی مے کیا ہوگی

جادۂ ملکِ بقا ہے خطِ پیمانۂ دل

ابرِ رحمت تھا کہ تھی عشق کی بجلی یارب

جل گئی مزرعِ ہستی تو اُگا دانۂ دل

حُسن کا گنِج گراں مایہ تجھے مل جاتا

تونے فرہاد! نہ کھودا کبھی ویرانۂ دل

عرش کا ہے کبھی کعبہ کا ہے دھوکا اس پر

کس کی منزل ہے الٰہی! مرا کاشانۂ دل

اس کو اپنا ہے جنوں اور مجھے سودا اپنا

دل کسی اور کا دیوانہ ، میں دیوانۂ دل

توسمجھتا نہیں اے زاہدِ ناداں اس کو

رشکِ صد سجدہ ہے اک لغزشِ مستانۂ دل

خاک کے ڈھیر کو اکیسر بنا دیتی ہے

وہ اثر رکھتی ہے خاکسترِ پروانۂ دل

عشق کے دام میں پھنس کر یہ رہا ہوتا ہے

برق گرتی ہے تو یہ نخل ہرا ہوتا ہے

 

شاعر کا  نام : علامہ محمد اقبال ( iqbal )

کتاب کا نام : بانگ درا  ( bang e dara )

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان