• صارفین کی تعداد :
  • 1985
  • 12/31/2008
  • تاريخ :

پیامِ صبح

(ماخوذ از لانگ فیلو)

 صبح

 

اجالا جب ہوا رخصت جبینِ شب کی افشاں کا

نسیمِ زندگی پیغام لائی صبِح خنداں کا

جگایا بلبلِ رنگیں نوا کو آشیا نے میں

کنارے کھیت کے شانہ بلایا اس نے دہقاں کا

طلسمِ ظلمت شب سُورۂ وَالنّوُر سے توڑا

اندھیرے میں اُڑایا تاجِ زر شمِع شبستاں کا

پڑھا خوابیدگان دَیر پر افسونِ بیداری

برہمن کو دیا پیغام خورشیدِ درخشاں کا

ہوئی بامِ حرم پر آکے یوں گویا مُوذّن سے

نہیں کھٹکا ترے دل میں نمودِ مہرِ تاباں کا؟

پکاری اس طرح دیوار کلشن پر کھڑے ہو کر

چٹک اوغنچۂ گل! تو مؤذن ہے گلستاں کا

!دیا یہ حکم صحرا میں، چلو اے قافلے والو!

چمکنے کو ہے جگنو بن کے ہر ذرّہ بیاباں کا

سوئے گورِ غریباں جب گئی زندوں کی بستی سے

تو یوں بولی نظارہ دیکھ کر شہرِ خموشاں کا

ابھی آرام سے لیٹے رہو میں پھر بھی آؤں گی

سلادوں گی جہاں کو، خواب سے تم کو جگاؤں گی

 

شاعر کا  نام : علامہ محمد اقبال ( iqbal )

کتاب کا نام : بانگ درا  ( bang e dara )

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان