• صارفین کی تعداد :
  • 2425
  • 12/30/2008
  • تاريخ :

سید کی لوحِ تربت

لوح تربت

اے کہ تیرا مرغِ جاں تارِ نفس میں ہے اسیر

اے کہ تیری روح کا طائر قفس میں ہے اسیر

اس چمن کے نغمہ پیراؤں کی آزادی تو دیکھ

شہر جو اجڑا ہوا تھا اس کی آبادی تو دیکھ

فکر رہتی تھی مجھے جس کی وہ محفل ہے یہی

صبر و استقلال کی کھیتی کا حاصل ہے یہی

سنگِ تربت ہے مرا گرویدۂ تقریر دیکھ
چشمِ باطن سے ذرا اس لوح کی تحریر دیکھ

مدعا تیرا اگر دنیا میں ہے تعلیمِ دیں

ترکِ دُنیا کو اپنی نہ سکھلانا کہیں

وانہ کرنا فرقہ بندی کے لئے اپنی زباں

چھپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامۂ محشر یہاں

وصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سے

دیکھ! کوئی دل نہ دُکھ جائے تری تقریر سے

محفِل نو میں پرانی داستانوں کو نہ چھیڑ

رنگ پر جواب نہ آئیں ان فسانوں کو نہ چھیڑ

تو اگر کوئی مُدبّر ہے تو سُنُ میری صدا

ہے دلیری دستِ اربابِ سیاست کا عصا

عرضِ مطلب سے جھجک جانا نہیں زیبا تجھے

نیک ہے نیت اگر تیری تو کیا پروا تجھے

بندہ مومن کا دل بیم و ریا سے پاک ہے
قوّتِ فرماں روا کے سامنے بیباک ہے

ہو اگر ہاتھوں میں تیرے خامۂ معجز رقم

شیشۂ دل ہو اگر تیرا مثالِ جامِ جم

پاک رکھ اپنی زباں، تلمیذِ رحمانی ہے تو

ہو نہ جائے دیکھنا تیری صدا بے آبرو!

سونے والوں کو جگا دے شعر کے اعجاز سے
خِرمنِ باطل جلا دے شعلۂ آواز سے

 

شاعر کا  نام : علامہ محمد اقبال ( iqbal )

کتاب کا نام : بانگ درا  ( bang e dara )

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان