• صارفین کی تعداد :
  • 3612
  • 12/20/2008
  • تاريخ :

سمجھداری کی باتیں

گل داوودی

٭  انسان کی سمجھداری یہ ہے کہ وہ کفایت شعار ہو۔

 

 * خدا کے نزدیک بہترین دوست وہ ہے جواپنے دوست کا خیر خواہ ہو۔

 

  * جب تجھے نیکی کرکے خوشی ہو اور برائی کر کے پچھتاوا ہو تو تو مومن ہے۔

 

 *  کسی برائی کو معمولی سمجھ کر اختیار نہ کرو۔ ممکن ہے اس سے خدا روٹھ جائے۔

 

*   گلے اور شکوے سے زبان بند رکھو، راحت نصیب ہو گی۔

 

*  پرہیز کرو، پرہیز نفع دیتا ہے عمل کرو، عمل قبول کیا جاتا ہے۔

 

  * علم پیغمبروں کی میراث ہے اور مال کفار، فرعون و قارون وغیرہ کی۔

 

 *  جو اللہ تعالیٰ کے کاموں میں لگ جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے کاموں میں لگ جاتا ہے۔

 

 *مومن کو اتنا علم کافی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔

 

* کم کھانا صحت، کم بولنا حکمت، اور کم سونا عبادت میں شامل ہے۔

 

* علم ایک ایسا پودا ہے جسے دل و دماغ کی سرزمین میں لگانے سے عقل کے پھل  اگتے ہیں۔

 

  * عالم کا آرام کرنا جاہل کی عبادت سے بہتر ہے۔

 

*  اے مسلمانو! تمہارے لیےرسولِ خدا کی ذاتِ گرامی ایک عمدہ نمونہ ہے۔

 

* اپنے رب سے گڑگڑا کر چپکے چپکے دعا کرتے رہو۔

 

*جو شخص بھی کوئی عمل کرتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے۔


متعلقہ تحریریں:

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کے ہدایات و ارشادات

 حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے کلمات قصار

حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے اقوال زریں