• صارفین کی تعداد :
  • 2380
  • 11/24/2008
  • تاريخ :

سلام لکھتا ہے شاعر تمہارے حسن کے نام

ہرے رنگ کا درخت

بکھر گیا جو کبھی رنگِ پیرہن سرِ بام
نکھر گئی ہے کبھی صبح، دوپہر ، کبھی شام

 

کہیں جو قامتِ زیبا پہ سج گئی ہے قبا

چمن میں سرو و صنوبر سنور گئے ہیں تمام

 

بنی بساطِ غزل جب ڈبو لیے دل نے

تمہارے سایۂ رخسار و لب میں ساغر و جام

 

سلام لکھتا ہے شاعر تمہارے حسن کے نام

تمہارے ہاتھ پہ ہے تابشِ حنا جب تک

 

جہاں میں باقی ہے دلدارئ عروسِ سخن

تمہارا حسن جواں ہے تو مہرباں ہے فلک

 

تمہارا دم ہے تو دمساز ہے ہوائے وطن

اگرچہ تنگ ہیں اوقات ، سخت ہیں آلام

 

تمہاری یاد سے شریں ہے تلخئ ایام

سلام لکھتا ہے شاعر تمہارے حسن کے نام

 

شاعر کا نام : فیض احمد فیض

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

 ترے ملنے کو بے کل ہو گۓ ہیں

 روشنی