• صارفین کی تعداد :
  • 1975
  • 11/16/2008
  • تاريخ :

تمہاری یاد سے ہر پل سجا ہوا کیمپس

سفید گلاب

تمہاری یاد سے ہر پل سجا ہوا کیمپس
میں کیا کروں کہ بھلا ہی نہیں سکا کیمپس

 

اُداس نہر میں تم پاؤں ڈالے رکھتی تھیں

تمہارے بعد اُداسی میں ڈھل گیا کیمپس

 

نہ جانے کون یہاں اس کا کھو گیا ہوگا

کسی کی آخری سانسوں میں تھی دعا کیمپس

 

جو میں نے ’’ہیلے‘‘ کی سڑکوں پہ تمہیں یاد کیا

تمہیں خبر ہے مرے ساتھ رو پڑا کیمپس

 

ہر اک ڈیپارٹمنٹ سے اسکے قہقہے گونجے

میں اسکے بعد وصی جب کبھی گیا کیمپس

 

شاعر کا نام : وصی شاہ

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

 باندھ لیں ہاتھ سینے پہ سجالیں تم کو

 ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے

اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا

 TOO late

 اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کردو

 آج یوں موسم نے دی جشن محبت کی خبر