• صارفین کی تعداد :
  • 2669
  • 11/16/2008
  • تاريخ :

بلوچ صوفی شاعر جام درک (1784ء ۔1714ء)

درچین

بلوچ صوفی شاعر جام درک جو کہ ڈومبکی قبیلہ کے سردار کرم خان کے صابزادے تھے ۔ اٹھارویں صدی عیسوی کی دوسری دھائی میں 1714ء میں پیدا ہوئے ۔ اپنی طویل زندگی میں انہوں نے بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے ۔ وہ بہترین شاہسوار ، تلوار باز ، شکاری اور کھلاڑی تھے ۔ ان کی شاعری ان کے لئے قدرت کا عطیہ تھی اور انہوں نے وقار ، مرتبے ، خودی اور اعلی ترین عوامل کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ۔

 

وہ ناصر اول کے زمانے میں قلات آ گئے اور اس کی سرپرستی مختلف علوم سے فیض حاصل کیا ۔ شاہی خانذادے کے علاوہ عام لوگ بھی ان کی بے پناہ عزت کرتے تھے ۔ ان کی شاعری میں عشق مجاذی کے حوالے سے عشق حقیقی کی روحانی گتھیاں سلجھتی ہوئی نظر آتی ہیں ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ شاہی خانذادے کی کسی خاتون پر فریفتہ ہو گئے تھے ۔ کیونکہ ان کی بہت سی شاعری اور گیت اسی امر کے غماز ہیں کہ وہ حسن فطرت کے ساتھ ساتھ اپنے کسی مجاذی محبوب کی تعریف میں رطب اللسان ہیں او عشق نے ان کی روح میں آگ بھڑکا رکھی ہے ۔

 

جام درک کی شاعری عوام الناس کے لئے شعری عطیہ کے علاوہ صوفیانہ روحانی قوتوں کی حامل بھی نظر آتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ستغراق کے عالم میں خدا کے حضور سجدہ ریز ہوتے وقتدنیا و مافیا سے بے خبر ہو جاتے تھے ۔ اور اس عالم میں بے خودی کے سرخوشی کے عالم میں جو شاعری تخلیق کرتے تھے وہ اعلی صوفیانہ اقدار کی حاصل ہوا کرتی تھی ۔

 

 جام درک کی نظموں میں فی البدیہہ اور رواں طرز اظہار ساحل پر پھیلتی سکڑتی موجوں کی طرح معلوم ہوتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ روحانی تجربوں سے گزر کر وہ بنی نوع انسان کو حقیقت مطلق تک رسائی کا راستہ بجھا رہے ہیں انہی خصوصیات کی بناء پر بلوچی زبان میں ان کی شاعری بے حد مقبول ہوئی ۔

اپنی عوامی ثقافت، روایات اور طرز زندگی کو اپنی شعری تخلیقات میں اس طرح دکھانا کہ وہ حقیقت کے قریب تر نظر آئیں جام درک کا ہی کمال ہے ۔ جام درک نے 1784ء میں انتقال فرمایا ۔

 

                                            راشد متین ( اردو پوائنٹ ڈاٹ کام )


متعلقہ تحریریں:

 آیت اللہ العظمٰی صافی گلپایگانی

خواجہ حافظ شیرازی

 مولوی جلال الدین بلخی

احمد فراز

استاد محمد تقی جعفری