• صارفین کی تعداد :
  • 3293
  • 11/16/2008
  • تاريخ :

شاہ حسین (1539-1594)

شاہ حسین

 

ربا میرے حال دا محرم توں

اندر توں ایں باہر توں ایں
روم روم وچ توں

 

عشقِ حقیقی میں ڈوبی ہوئی یہ آواز ایک درویش صفت اور مست الست انسان کی آواز ہے جو آج سے تقریبا ساڑھے چار سو سال قبل خطہ پنجاب میں گونجی اور پھر دیکھتے دیکھتے پاک وہند میں پھیل گئی۔ یہ آواز شاہ حسین کی آواز تھی جنہیں مادھو لال کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ شاہ حسین پنجاب کے ان سرکردہ صوفیاء میں سے ہیں جنہوں نے برصغیرمیں خدا کی وحدانیت کا پیغام گھر گھر پہنچایا۔ دادا ہندو تھا، والد حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور نام شیخ عثمان رکھا گیا۔ لاہور کے ٹکسالی دروازے میں رہائش پذیر ہوئے، یہیں ۱۵۳۹ء میں شاہ حسین پیدا ہوئے۔ یہ زمانہ سلطنت مغلیہ کے مرکزی علاقوں میں احیائے دین کی تحریکوں کا زمانہ تھا جس کا رد عمل قادر یہ مسلک کی صورت میں مروجہ صوفیانہ بغاوت کے علمبردار کی حیثیت سے سامنے آیا۔ اس مسلک کی تشکیل میں بھگتی اثرات کے علاوہ ملامتی مکاتیبِ فکر نے بھی حصہ لیا تھا اور اس نظام فکر کا اولین اظہارشاہ حسین کی صوفیانہ بغاوت کی صورت میں ہوا۔ ان کے گھرانے میں ہندو ثقافتی اور مذہبی اثرات بدستور موجود تھے۔ شاہ حسین پیشہ کے اعتبار سے بافندے تھے اور انہوں نے اپنے اس طبقاتی پس منظر کا کھلے دل کے ساتھ اظہار بھی کیا۔

 

جنیوٹ کے قادری صوفی شیخ بہلول نے انہیں اپنے حلقے میں شامل کر لیا اور شاہ حسین کے شب وروز عبادتوں اور ریاضتوں میں بسر ہونے لگے۔ یہ سلسلہ چھتیس برس جاری رہا۔ انہی دنوں شیخ سعد اللہ نامی ایک ملامتی درویش لاہور آ نکلے۔ وہ کامل ملامتی تھے۔ شاہ حسین نے ان کی صورت میں جب بغاوت کو مجسم دیکھا تو ان کے گرویدہ ہو گئے اور ان کی صحبت میں شاہ حسین مدہوش ہوتے گئے۔ شیخ بہلول حدود سے اس حد تک تجاوز کو پسند نہ کرتے تھے مگر شاگرد”اصلاح “ کے مقامات سے گذر چکا تھا۔

 

وہ رقص کرتے، وجد میں رہتے ، دھمال ڈالتے اور لال رنگ کے کپڑے پہنتے۔ اسی بنا پر لال حسین کے نام سے مشہور ہو گئے۔ اور اپنے حال میں مست رہے۔ انہی دنوں ایک برہمن زادے نے ان کی خود اعتمادی ، خود پر ستی اور حق شناسی کے آئینے کو ایک ہی نظر میں چور چور کر دیا۔ شاہ حسین اس کے پیچھے ہو لیے۔ کئی برس اسی تعلق میں گزار دیے ۔ بالآخر حسین کا معرکہ عشق کی کامیابی پر ختم ہوا، اور مادھونے اپنا دین ایمان دوست پر نچھاور کر دیا اور زندگی ان کی دلجوئی کے لئے وقف کر دی۔

 

پنجاب کے اکثر صوفی دانشوروں کی طرح حسینی فکر بھی عقلاتی سطح پر معلوم نہیں ہوتا بلکہ حسی سطح پر رہتا ہے۔ شاہ حسین نے شاعری کو وسیلہ اظہار بنایا اور موسیقی آمیز شاعری کے ذریعے اپنے افکار وتعلیمات کو خاص و عام تک پہنچایا۔صوفیانہ اظہار کی یہ صورت بعد ازاں پنجاب کی شاعری میں ایک مستقل صنف بن گئی۔

 

 وہ صاحب حال صوفی تھے ان پرجو کیفیات گزرتیں، سادہ زبان میں بیان کر دیتے۔ قوتِ مشاہدہ، قرآن وحدیث کی تعلیمات اور فقہ کے مطالعے کی بدولت ان کی شاعری کے سادہ الفاظ میں بھی گہرے معانی پائے جاتے ہیں اور ان کی کافیوں میں استعمال کیے گئے عام الفاظ علامتوں کا روپ دھار چکے ہیں۔ شاہ حسین کا جسم ملامتی تھا اور روح قادری، اور ان کی روز مرہ زندگی ملامتیہ زندگی میں رچی ہوئی تھی۔ ان کے مطابق طالب اور مطلوب کے درمیان رابطے کے لئے کسی تیسری ذات کی موجودگی اور اس کا فعال تعاون بے حدی ضروری ہے۔ تاریخ دانوں نے لکھا ہے کہ مغلیہ حاکموں کی بہت سی بیگمات اور شہزادیاں شاہ حسین کو اپنا بزرگ مانتی تھیں مگر شاہ حسین شاہی خانوادے کے اِس التفات سے بے نیاز تھے اور اپنے ڈھنگ کی زندگی بسر کرتے تھے۔ لاہور میں برس ہابرس تک درو یشانہ رقص و سرود کی محفلیں آباد کرنے کے بعد یہ درویش ۱۵۹۴ء میں اللہ کو پیارا ہوا۔

                                           راشد متین( اردو پوائنٹ ڈاٹ کام ) 


متعلقہ تحریریں:

 صادق ہدایت

  انتظار حسین

خواجہ حافظ شیرازی

 مولوی جلال الدین بلخی

احمد فراز

 استاد محمد تقی جعفری