• صارفین کی تعداد :
  • 1789
  • 11/10/2008
  • تاريخ :

ترے ملنے کو بے کل ہو گۓ ہیں  

لال گلاب

ترے ملنے کو بے کل ہو گۓ ہیں
مگر یہ لوگ پاگل ہو گۓ ہیں

 

بہاریں لے کے آۓ تھے جہاں تم

وہ گھر سنسان جنگل ہو گۓ ہیں

 

یہاں تک بڑھ گۓ آلامِ ھستی

کہ دل کے حوصلے شل ہو گۓ ہیں

 

کہاں تک لاۓ  ناتواں دل

کہ صدمے اب مسلسل ہو گۓ ہیں

 

نگاہِ یاس کو نیند آ رہی ہے

مژہ پر اشک بوجھل ہو گۓ ہیں

 

انھیں صدیوں نہ بھولے گا زمانہ

یہاں جو حادثے کل ہو گۓ ہیں

 

جنھیں ہک دیکھ کر جیتے تھے ناصر

وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گۓ ہیں

 

شاعر کا نام : ناصر کاظمی


متعلقہ تحریریں:

کیا دن مجھے عشق نے دکھاۓ

 رونقیں تھیں جہاں میں کیا کیا کچھ

حاصلِ عشق ترا حُسنِ پشیماں ہی سہی