• صارفین کی تعداد :
  • 3969
  • 11/9/2008
  • تاريخ :

رحمان بابا (1653-1709)

رحمان بابا

رحمان بابا جن کا اصل نام عبد الرحمن تھا۔ بلاخوف تردید پشتو زبان کے سب سے بڑے صوفی شاعر تھے۔ مورخین کے مطابق ان کی ولادت بہادر کلی کے مقام پر۱۶۵۳ء میں ہوئی۔ انہوں نے ابتدائی اور دینی تعلیم ملا یوسف زئی سے حاصل کی ۔وہ صوفیاء کے چشتیہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔

 

اور انہوں نے اس مسلک کے ابتدائی صوفیاء ہی سے روحانی فیض حاصل کیا ۔ محققین کا کہنا یہ بھی ہے کہ وہ فارسی کے ایک بڑے صوفی شاعر صناعی سے متاثر تھے کیونکہ ان کی شاعری اور صناعی کی شاعری میں بعض اوقات بے پناہ مماثلت محسوس ہوتی ہے۔

 

ان کی شاعری کے مطالعے کے بعد یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ فارسی کی کلاسیکی شعری روایات سے بھی بخوبی آگاہ تھے۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو ان کی شاعری ایران کی مرکزی صوفیانہ اقدار میں شمار کی جا سکتی ہے۔ جبکہ خوشحال کی شاعری کے موضوعات کئی ایک ہیں۔ رحمان بابا کی شاعری میں مرکز یت زمین پر بسنے والی مخلوق کے مسائل ہیں اور بنی نوع انسان کے ساتھ ایک جداگانہ محبت ایک لامتناہی تعلق کے طور پر زیادہ تر ان کی شاعری کا موضوع بنتی ہے۔

 

ان کے شعروں میں اردو اور فارسی غزل کی روایات بھی نظر آتی ہیں۔ جنہیں دنیاوی عشق کی وساطت سے عشق حقیقی پر منطبق کیا جا سکتا ہے۔ ان کی یہ شعری خصوصیت تخلیقی محاسن کے ساتھ ساتھ وسعت اور پذیر ائی کا موجب بنتی ہے۔ روزمرہ کے مسائل، فطرت کی رنگینیاں اور حسی تجربوں کے بیان کی بدولت رحمان بابا کی شاعری میدانِ شعرو ادب میں صوفیانہ فکر کے حوالے سے بے پناہ شہرت کی حامل ہے۔

رحمان بابانے بعض کے مطابق ۱۷۱۱ء میں وفات پائی ۔

 

                                            راشد متین ( اردو پوائنٹ ڈاٹ کام )


متعلقہ تحریریں:

آیت اللہ العظمٰی صافی گلپایگانی

خواجہ حافظ شیرازی

مولوی جلال الدین بلخی

 احمد فراز

 استاد محمد تقی جعفری