• صارفین کی تعداد :
  • 4262
  • 11/4/2008
  • تاريخ :

سوره یوسف (ع) (11 تا 15 )  آیات کی  تفسیر

القرآن الکریم

بسم اللہ الرّحمن الرّحیم

ارشاد ہوتا ہے :

" قالوا یا ابانا مالک لاتامنّا علی یوسف و انالہ لناصحوں ، ارسلہ معنا غدا یّرتع و یلعب و انّا لہ لحافظون "

(یعنی جناب یوسف (ع) کے بھائیوں نے اپنے والد یعقوب علیہ السلام سے ) کہا : اے ہمارے بابا ! آپ کو کیا ہوگیا ہے کہ ہم کو یوسف کے سلسلے میں امین نہیں سمجھتے جبکہ ہم ان کے خیر خواہ ہیں کل آپ ان کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے کہ وہ (بھی) صحرا میں ہمارے ساتھ گھومیں پھریں اور تفریح کریں ، ہم ان کی نگہبانی کریں گے ۔

 

عزیزان محترم ! اس سے قبل کی گفتگو آپ کے پیش نظر ہے کہ جناب یوسف (ع) کے بھائیوں نے ان کی طرف باپ کی محبت و شفقت کی فراوانی کے تحت جلن اور حسد میں پڑ کر یوسف (ع) کے قتل کا منصوبہ بنایا مگر ایک بھائی نے قتل کی مخالفت کی اور صرف باپ کی نگاہوں سے دور کردینے کے لئے انہیں سر راہ کسی کنویں میں ڈال دینے کی رائے دی اور اس امر پر اتفاق ہو جانے کے بعد ، جیسا کہ اس آیت میں اشارہ ہے تمام بھائیوں نے باپ کی احتیاط اور یوسف (ع) کو ہر وقت ساتھ رکھنے کی روش پر محبت آمیز لہجہ میں اعتراض کیا کہ آپ کو کیا ہو گیا ہے آپ یوسف(ع) کو خود سے الگ ہی نہیں کرتے کل آپ انہیں ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دے دیجئے کہ وہ بھی صحرا میں ہمارے ساتھ گھومیں پھریں کھیلیں کودیں ۔ دراصل سیر و تفریح کی غرض سے ساتھ لے جانے کا بہانہ، جناب یوسف(ع) کو باپ سے جدا کرنے کا بہترین بہانہ تھا جو ان کے بھائیوں نے اختیار کیا تھا ، یہ وہ چیز ہے جو ہر جوان و نوجوان کی ضرورت ہے اور چونکہ ہر باپ اپنے بچوں کی خوشی اور تر و تازگی چاہتا ہے بھائیوں کو پتہ تھا کہ یعقوب علیہ السلام ان کی اس خواہش کو مسترد نہیں کریں گے اس کے علاوہ اپنی امانت داری میں شک کی بات سامنے رکھ کر انہوں نے باپ کی زبان بند کر دی اور یقین بھی دلایا کہ ہم یوسف (ع) کی نگرانی رکھیں گے انہیں کسی طرح کی تکلیف نہیں ہوگي یہی وجہ تھی کہ جناب یعقوب دل سے نہ چاہنے کے باوجود جناب یوسف (ع) کو بھائیوں کے ساتھ رخصت کرنے پر مجبور ہو گئے 

 اور اب سورۂ یوسف (ع) کی تیرہویں آیت ، جناب یعقوب (ع) فرماتے ہیں :

 " قال انّی لیحزننی ان تذہبوا بہ و اخاف ان یّاکلہ الذّئب و انتم عنہ غافلون "

یعنی [یعقوب (ع) ] نے کہا : تمہارا اس کو اپنے ساتھ لے جانا میرے لئے تکلیف دہ ہے میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں اس کو بھیڑیا نہ کھا جائے اور تم اس کی طرف سے غافل رہ جاؤ ۔

قرآن مجید

حضرت یعقوب علیہ السلام چونکہ خدا کے نبی تھے لہذا ان کا گمان بھی علم پر استوار تھا مگر ایک باپ کے لئے بچوں کی طرف سے بدگمانی اور عدم اعتماد اور وہ بھی جبکہ بیٹے بڑے ہوچکے ہوں مناسب نہیں ہے اس لئے صرف اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے جناب یوسف (ع) کے بھائیوں کو خبردار کر دینے پر اکتفا کرتے ہیں کہ ٹھیک ہے میں نے یوسف (ع) کو ساتھ لے جانے کی اجازت تو دے دی ہے کہ تمہاری دل شکنی نہ ہو مگر میرا دل غمگین ہے میں یوسف(ع) کی جدائی کا خطرہ محسوس کر رہا ہوں کہ اگر تم نے غفلت سے کام لیا تو بھیڑیا انہیں اپنی خوراک بنا لے گا گویا جناب یعقوب (ع) پہلے سے ہی بھائیوں کے بہانوں کے لئے زبان بندی کردینا چاہتے تھے کہ وہ اپنے مکر سے باز آ جائیں مگر بعض وقت انسان پر اس طرح شیطان غالب ہوتا ہے کہ اس کو کوئی نصیحت فائدہ نہیں پہنچاتی ۔

 

اور اب سورۂ یوسف (ع) کی چودہویں آیت :

قالوا لئن اکلہ الذّئب و نحن عصبۃ انّا اذا" لّخاسرون

[ یوسف ( ع) کے بھائیوں نے ] کہا : اگر اس کو بھیڑیا کھاگیا اور ہم باوجودیکہ قوی و توانا ہیں ( دیکھتے رہ گئے ) تو ہم بہت بڑے گھاٹا اٹھانے والوں میں ہو جائیں گے ۔

عزیزان محترم ! باپ کی جانب سے جناب یوسف (ع) کی زندگی کے لئے خطرے کے اظہار نے جناب یوسف (ع) کے بھائیوں کے دلوں میں چھپے ہوئے چور کو اس بات پر مجبور کر دیا کہ وہ تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے باور کرا رہے تھے اگر انہیں بھیڑیے نے کھا لیا تو ہمارے بازوؤں کی قوت کہاں کام آئے گی یہ تو ہمارے لئے بڑے گھاٹے کی بات ہوگی گویا وہ اپنی قوت و توانائی کو جناب یوسف (ع) کی حفاظت کی دلیل قراردیتے ہوئے جناب یوسف (ع) کی طرف سے غافل نہ ہونے کا یقین دلا رہے تھے جبکہ ظاہر ہے قوی ہونا امین ہونے کی دلیل نہیں ہے اگر خیانت کا عزم ہو تو قوت کیا کرے گی اور اسی مسئلے کی طرف سے جناب یعقوب (ع) فکرمند تھے ۔یعنی جناب یوسف (ع) کی دوری سے زیادہ انہیں اپنے بچوں کے حسد اور خیانت کی فکر نے غمگین کررکھا تھا ۔

 

اور اب سورۂ یوسف(ع) کی آیت پندرہ ارشاد ہوتا ہے :

" فلمّا ذہبوا بہ و اجمعوا ان یّجعلوہ فی غیابت الجبّ و اوحینا الیہ لتنبّئنّہم بامرہم ہذا و ہم لایشعرون " 

پس وہ لوگ جب یوسف (ع) کو لے گئے اور سب نے طے کیا کہ ان کو کنویں کے اندر تہوں میں چھوڑدیں تو ہم نے ان [ یوسف (ع) ] کی طرف وحی کردی کہ جلد ہی مستقبل میں تم ان (بھائیوں ) کو ان کے اس عمل کی خبر دو گے اور وہ (تمہیں ) پہچان بھی نہیں سکیں گے ۔

عزیزان محترم ! جیسا کہ آیت سے واضح ہے بھائیوں نے یوسف (ع) کو باپ سے جدا کیا ساتھ لے گئے اور اپنے منصوبے کے تحت سرراہ ایک کنویں میں ڈال دیا اور قدرت خدا نے انہیں کنویں میں ایک محفوظ مقام پر پہنچا دیا اور وحی کے ذریعہ انہیں خبر کردی کہ وہ کنویں کی تاریکی اور تنہائی سے پریشان نہ ہوں خدا ان کو باقی رکھنے کا قصد رکھتا ہے ایک دن آئے گا جب وہ اپنے ان ہی بھائیوں کو ان کے اس غیر انسانی عمل سے باخبر کریں گے اور وہ پہچان بھی نہیں سکیں گے کہ ان کا وہی بھائی ان سے مخاطب ہے کہ جس کو انہوں نے کنویں میں چھوڑ دیا تھا ۔اس آیت میں گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا اپنے مخلص بندوں کی طرف سے کبھی غافل نہیں ہوتا ، جس سے جو کام لینا ہوتا ہے اس کے لئے اس کی حفاظت بھی کرتا ہے ؛اور اب زیر بحث آیات سے جو سبق ملتے ہیں ان کا ایک خلاصہ :

لوگوں کے ہر دعوے کو قبول کرلینا اور ہر نعرے کو دل کی آواز سمجھ لینا صحیح نہیں ہے چنانچہ جناب یوسف (ع) کے بھائیوں کو اپنی خیانت اور برادر کشی کے عزائم کا اچھی طرح علم تھا پھر بھی باپ کو اپنی امانت داری کا یقین دلانے کی کوشش کر رہے تھے ۔

قرآن

برادرانہ حسد اور جلن بھی کبھی کبھی انسان کو مجبور کر دیتی ہے کہ باپ کی مانند قریب ترین فرد اور نبی کی مانند عظیم ترین ہستی کے سامنے انسان جھوٹ بولتا اور خود کو فریب دیتا ہے ۔

جوانوں کو ورزش اور سیروتفریح کی ضرورت ہے مگر ماں باپ کو اس سلسلے میں بچوں کی طرف سے کبھی غافل نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ممکن ہے کوئی اپنا ہی بھائی غلط فائدہ اٹھائے ۔

بچوں کی تربیت میں دو بنیادی باتوں کا خیال رکھنا چاہئے ایک تو یہ کہ ان کی شخصیت کسی حال میں مجروح نہ ہو ،اپنے امور کا فیصلہ وہ خود کریں اور خود اعتمادی ہاتھ سے نہ جانے دیں دوسرے یہ کہ ان خطرات کی طرف سے خبردار کرنا کبھی نہ بھولیں کہ ایک جوان جس کی طرف سے لاپروا اور غافل ہوتا ہے ۔

اس لئے کہ جوانی کے بعض نقصانات ایسے بھی ہیں کہ جن کی تلافی عمر بھر ممکن نہیں ہوتی اور ایسے امور سے جوانی کے تجربات کے نام پر بے توجہی عقل و خرد کے منافی ہے ۔

عام طور پر جوانوں کو اپنے بازوؤں کی قوت پر ناز ہوتا ہے اور وہ خطرہ مول لینے پر تیار ہوجاتے ہیں بزرگوں کو ایسے موقعوں پر اپنا فریضہ ادا کرنا چاہئے ولو جوانوں کو ناگوار کیوں نہ ہو ۔

ناپاک عزائم تک پہنچنے کے لئے بعض عناصر کچھ بھی کر گزرتے ہیں جھوٹ ، فریب ، آبروریزی کوئی بھی کام ان سے بعید نہیں ہے ایسے عناصر سے ہمیشہ خبردار رہنا چاہئے ۔

 

الہام کی صورت میں وحی ، نبیوں سے مخصوص نہیں ہے جس کا نفس پاک ہو خدا اس پر اپنا یہ لطف کرسکتا ہے جیسا کہ حضرت یوسف (ع) اس وقت نبوت پر فائز نہیں ہوئے تھے مگر الہی وحی کا مرکز قرار پائے ، اور آخری بات یہ کہ

مستقبل کی طرف سے اطمینان اور یقین ، زندگی جاری رکھنے کا بہترین سرمایہ ہے اسی لئے جب یوسف(ع) کنویں میں ڈالے جا رہے تھے خدا نے وحی کرکے انہیں مستقبل کی طرف سے امیدوار کیا تاکہ وہ مایوس نہ ہوں ۔ مایوسی انسان کی سب سے بڑی مصیبت ہے ۔

                 اردو ریڈیو تہران


متعلقہ تحریریں:  

 تفسیر سوره بقره(آیت 26)

 تفسیر سوره بقره