• صارفین کی تعداد :
  • 3723
  • 9/28/2008
  • تاريخ :

رات مبارک اور دن شادمانی کا

عید سعید فطر

رمضان المبارک کی ساعتیں تیزی سے گذر رہی ہیں یہ ساعتیں جہنم سے خلاصی کے آخری عشرہ میں داخل ہو چکی ہیں۔ اس کی چند ہی ساعتیں اب باقی رہ گئی ہیں کتنے خوش نصیب اللہ کے وہ بندے ہوں گے جنہوں نے رمضان المبارک کے ایک ایک لمحہ کی قدر کر کے اپنی آخرت کو بنانے و سنوارنے کی فکر میں روزوں اور تراویح کا اہتمام اور کارخیر میں نمایاں حصہ لیا ہوا ہو گا اور اب وہ آخری عشرہ کی چند ساعتوں میں اپنے رب العزت کی بارگاہ میں خلاصی و مغفرت کے امیدوار ہوں گے اسی عشرہ میں ایک وہ مبارک رات بھی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے یعنی ہزار مہینوں کی عبادتوں کا ثواب اور رحمت ایزدی کے چشمہ فیاض سے سیراب ہونے کی رات ہے لیکن دولت کس کو ملے گی اور کس کے حق میں جائے گی وہی لوگ تو ہوں گے جنہوں نے اپنے خانہ دل کو محبت الٰہی سے سجایا سنوارا ہو گا۔ اس کی بڑائی و کبریائی کا نغمہ ان کی زبان پر ہوگا۔ دن میں روزہ اور رات میں عبات گزاری ان کا شیوہ ہو گا اور رضائے الٰہی کے حصول میں انہوں نے کبھی غفلت نہ برتی ہو گی۔ آخری عشرہ کی طاق راتیں اس اعتبارسے اہم ہیں کہ انہیں میں سے کسی ایک رات میں اس بابرکت رات کے سایہ فگن ہونے کی بشارت دی گئی ہے۔

 

اللہ رب العزت کی ذات بڑی کریم ہے۔ اپنے بندوں پر بڑی مہربان ہے خصوصاً امت محمدیہ پر اس کے کرم کی بارش تو بے پایاں ہے ۔اس ذات پاک نے اس امت کو خیرامت اور وسط امت کا لقب عطا فرمایا تو اسے ایسے امتیازات و خصائص بھی نوازا جو دوسری امتوں کا حاصل نہیں ہیں ۔انہیں میں سے شب قدر اور عید سعید بھی۔

 

شب قدر کی بشارت تو ایسے وقت میں دی گئی جب حضور اکرم کی مجلس میں پچھلی امتوں کی طویل عمروں کا تذکرہ آیا اور ان کی عبادت و ریاضت سے بھرپور زاہدانہ زندگی کا ذکر کیا گیا۔صحابہ کرام سن کر ذرا آزردہ خاطر ہوئے ۔ خیال آیا ہماری اتنی عمر کہاں اور یہ بھی خیال آیا ہوگا کہ پھر اتنی نوازشیں و عطائیں بھلا کیسے ہوں گی۔ ادھر یہ خیال گزرا بعض صحابہ نے اس کا اظہار بھی کیا ادھر رحمت الٰہی جوش میں آئی اور اس رحمت بھری رات کا ہدیہ عطا کیا گیا اب اپنی اپنی کوشش ہے حوصلہ ہے اور دامن و دل کی وسعت ہے۔

عید سعید فطر

یہ رات بھی اپنے نیرنگیوں کے ساتھ گذرے گی لیکن اس حالت نے رمضان المبارک کے اختتام پر ایک اور رات دی ہے جسے عید کی رات کہا جاتا ہے وہ رات بھی بڑی مبارک ہے۔ اللہ کی رحمت اپنے بندوں کو اپنے جلو میں لینے کےلئے بیتاب ہوتی ہے ۔ حدیث میں آتا ہے کہ وہ رات مغفرت کی رات اور انعام کی رات ہوتی ہے ، گناہوں سے بخشش کی رات ہوتی ہے ،لیکن افسوس صد افسوس !وہ رات عید کے چاند کو دیکھنے اور سامان عید کی فکر میں گزر جاتی ہے اس کو خیال بھی نہیں آتا کہ اس رات کو بھی اتنی اہمیت حاصل ہے اور اس رات میں اللہ کا کرم و فضل اتنی قوت سے جاری ہوتا ہے اور انہیں پکارپکار کر رحمت حق کے زیر سایہ آنے کی دعوت دی جاتی ہے لیکن آنکھ ہو تو دیکھے ،کان ہو تو سنے ،دل ہو تو سمجھے فکر تو اس رات کی بھی ہونی چاہئے مگر افسوس اس کا ہے کہ ستائیسویں شب کو رسمی اہتمام کے بعد کلی طور پر اپنے آپ کو فارغ کر لیا جاتا ہے۔

 

 خواتین بازاروں میں امڈ پڑتی ہیں، بے حجاب گھومتی ہیں ، زیب و زینت اور آرائش اور بناﺅ سنگھار کے سازو سامان خریدتی ہیں اور اس طرح اس مقدس رات کو اپنے ہی ہاتھوں پامال کیا جاتا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ اب رمضان سے آزادی ملے گی ۔ روزوں اور تراویح کی بیڑیاں و سلاسل سے آزاد ہو گئے، مسرت و فرحت اس کی کہ اب دن میں نوع بہ نوع اور مختلف و پرتصنع کھانوں سے ضیافت ہو گی۔ بے مہار زندگی کو جو تھوڑا سا قرار آیا تھا پھر وہ اپنے روش پر آ جائے گی۔

اگر عید کی فرصت و مسرت اور شادمانی اس کی غماز ہے تو پھر سمجھنا چاہئے کہ عید کا حق ادا نہیں ہوا ۔ اس نے مالک کا شکریہ ادا نہیں، وہ نفس کا بندہ اور شہوت کا اسیر وہ خدا کے حضور میں حاضر ہو گا تو بڑا مفلس ہوگا اوربڑا فقیر۔

عید سو اس لئے ہے کہ اس کا شکریہ ادا کریں کہ اس نے ہمیں عظیم فریضہ کی ادائیگی کی توفیق سے نوازا اور ایسا مہینہ عطا فرمایا جس میں پورے سال کی کامیابی کی ضمانت دی گئی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب رمضان المبارک خدا کی نافرمانی کی باتوں سے محفوظ گزر جائے تو پورا سال نافرمانیوں سے محفوظ رہے گا۔ اب یہ دیکھنا چاہئے کہ عید کا چاند دیکھتے ہی ہماری کتاب زندگی میں کیسے نقوش ابھر رہے ہیں ،کوئی داغ دھبہ تو نہیں رہا ہے اگر رہا ہے تو پھر سمجھنا چاہے کہ رمضان بابرکت شب و روز کسوٹی پر ہم پورے نہیں اترتے ہیں۔                                

      تحریر: آزاد احمد ندوی (کشمیر عظمی )


متعلقہ تحریریں:

 ماہ شوال کی فضیلت اور اس کے اعمال

 مسرتوں اور شادمانیوں سے معمور عید مبارک هو

 مسلمانوں کی دوعید : عیدالفطر ، عیدالاضحی

 عید مسلمان کی خوشی مگر شیطان کے غم کا دن ہے

 عید کے معنی اور تاریخی اہمیت

عید کے دن شکر کریں احتجاج نہیں

 عید سعید فطر