• صارفین کی تعداد :
  • 4526
  • 9/21/2008
  • تاريخ :

اسعد بن علی

صفاقس

1964ع میں تونس كے صفاقس علاقہ میں پیدا ھوئے، مالكی مذھب كے معتقد گھرانہ میں پروان چڑھے، تعلیم كا سلسلہ شروع كیا اور M . A پاس كرنے كے بعد فیزیك سبجكٹ كو لیكر یونیورسٹی میں داخلہ لیا، سن رشد كو پھنچنے كے بعد سائنس اور عصر جدید كے افكار كا مطالعہ شروع كیا، تاریخ اور اس كے قوانین و جزئیات كی تلاش میں منھمك ھوگئے تاریخ سے شروع كیا تا كہ تاریخ سے متعلق كوئی جامع نظریہ اپنا سكیں جس میں یہ انسان دوبارہ اپنے اللہ كے ساتھ اس كائنات میں ضم ھوسكے ۔

اسلامی بصیرت كی تلاش

اسلامی بصیرت جو رھنمائی زندگی ھے اور بھتر مستقبل كی طرف لے جاتی ھے، اس كو حاصل كرنے كی كوشش كی اور كوشش كی كہ اپنا معیار علم بھی بلند كریں تاكہ موجودہ نظام فكر و ثقافت و تمدن اسلام كو اچھی طرح سمجھ سكیں، یھی وہ فكر و بصیرت ھے جو انسان اور سماج كو نجات دے سكتی ھے باسعادت و منظم حیات عطا كرسكتی ھے ۔

جناب اسعد نے پوری كوشش كی كہ ایسے لوگوں سے آشنا ھوں جو اس علم میں زبردست مھارت ركھتے ھوں، اس دوران سید محمد باقر الصدر كی كتابوں كا علم ھوا ۔ جس كے بعد محسوس ھوا كہ اب مقصد نظر آنے لگا ھے، سید محمد باقر الصدر كو ایك ایسی شخصیت پائی جو مختلف جھت سے منظم و متكامل اسلامی درسگاہ تھے اس شخصیت سے بے انتھا متاثر ھوئے اور ان كی فكر میں غرق ھو گئے ۔

سید محمد باقر الصدر كے جس علمی بیان نے اسعد بن علی كو حیرت میں ڈال دیا وہ كلام جدید اور ابتكاری طرز پر ان كے مطالب و مضامین تھے، یہ وہ شخصیت تھی جن كی كتابوں كے ذریعہ اسعد بن علی كو شیعہ میراث كے متعلق علم ھوا اور پھر آھستہ آھستہ اس مذھب كے اركان و عقائد، فكری اصول كے متعلق علم ھونے لگا ۔

امامت كی شناخت

سید محمد باقر الصدر كی كتابوں كا مطالعہ اور دیگر شیعہ علماء كی كتابوں كے ذریعہ مسئلہ امامت اور اس كی عظمت و جایگاہ سے آگاھی ھوئی، ان كے لئے كشف ھوا كہ امامت كی ضرورت، ضرورت نبی كی طرح ھے جو معاشرہ اور تاریخ كے تمدن و ترقی كے لئے لازمی ھے ۔ امام، نبی كی طرح زمین پر اللہ كا نمایندہ اور گواہ و ناظر ھوتا ھے تاكہ اسلامی انقلاب جسے رسول خدا نے ایجاد كیا ھے، اسے جاھلیت و انحراف سے بچا سكے، وہ اسلام كو اصولی، فكری، نفسیاتی لحاظ سے استبداد، استحصال سے محفوظ ركھ سكے، رسول خدا كی كچھ ذمہ داریاں رسول كی زندگی میں تمام ھو گئیں جو پیام پھنچانا تھا، پھنچا چكے اور وہ دور آغاز انقلاب كا تھا لیكن وصی، صاحب رسالت و پیام نھیں ھوتا، نیا دین پیش نھیں كرتا، بلكہ رسالت رسول اور انقلاب رسول كا امانت دار محافظ ھوتا ھے ۔

خلافت كے سلسلہ میں رسول كا موقف

اسعد صاحب نے امامت كے سلسلہ میں اپنا مطالعہ جاری ركھا اور پھر جاننا چاھا كہ رسول خدا كا اس سلسلہ میں كیا موقف، كیا رویہ تھا، معلوم ھوا كہ تین حال سے رسول كا موقف خارج نھیں تھا :

1 ۔ رسول خدا نے امامت و خلافت سے متعلق كچھ بھی اظھار نھیں فرمایا ۔

2 ۔ رسول خدا نے امامت و خلافت سے متعلق امور كو امت كے مشورہ ان كی صوابدید اور رائے پر موكول فرمادیا ۔

3 ۔ رسول خدا نے امامت و خلافت كے لئے كسی ایك شخص كو معین فرمایا اور اس كا اعلان و اظھار بھی كردیا ۔

ان تین احتمال میں پھلے احتمال كو تسلیم نھیں كیا جاسكتا چونكہ دو حال سے خارج نھیں ۔

الف) رسول خدا علم ركھتے تھے، ان كا عقیدہ تھا كہ امامت، ان كی رسالت كے حق میں كوئی اثر و ثمر نھیں ركھتی ۔

ب) رسول خدا مصلحت مزاج تھے، جب تك زندہ تھے رسالت كی حفاظت كی وفات كے بعد آپ كو كوئی پرواہ نھیں كہ وہ باقی رھے یا فنا ھوجائے ۔

جب كہ یہ دونوں احتمال باطل ھیں امامت، رسالت نبی كے حق میں اثر و ثمر نھیں ركھتی باطل ھے چونكہ امامت، محافظ رسالت ھے ھر رسالت كا نامہ بر امین ھونا ضروری ھے جس كے سایہ میں محفوظ رھتا ھے، رسول كا مصلحت مزاج ھونا حضور كی توھین ھے اور ھدف اسلام كے منافی چونكہ اسلام ھر دور ھر شخص كے لئے ھے ۔

دوسرا احتمال كہ اس مسئلہ كو امت كے حوالہ كردیا ھو، یہ بھی باطل ھے اسعد بن علی كو تاریخ كا مطالعہ اور اوائل كے حالات اور رسول كی كار كردگی كا جائزہ لینے پر معلوم ھوا كہ رسول نے ایسا نھیں كیا اور مسئلہ امامت و خلافت كو قوم كے حوالہ نھیں كیا، بلكہ صاف لفظوں میں حضرت علی علیہ السلام كو معین فرمایا ھے ۔

تیسرا احتمال كہ رسول نے اپنے بعد كے لئے اپنی زندگی میں كسی ایك شخص كو معین فرمایا ھے اور اعلان و اظھار بھی كیا ھے، اس احتمال كا ثبوت تاریخی مطالعہ سے ثابت ھے اسعد بن علی كھتے ھیں كہ میں نے مطالعہ كیا تو معلوم ھوا كہ یھی طریقہ، انبیاء كی عادت سے تناسب ركھتا ھے اور جس كو نبی معین كردیتا ھے وہ سیاسی و فكری نظام اسلام كا زمامدار ھوتا ھے ۔ تاریخی شواھد اور روایات جن تك دسترسی ھوئی ھے اس امر كو ثابت كرتی ھیں ۔ جیسے حدیث دار، حدیث ثقلین، حدیث منزلت، واقعہ غدیر خم ۔

تبدیلی فكر كی سختی

شیخ اسعد كے لئے سخت تھا كہ اتنی ساری معتبر حدیث، معتبر واقعات اور قطعی علم حاصل ھونے كے بعد اپنے پرانے باطل خیالات پر قائم رھیں اور حق كے واضح ھونے كا اعلان نہ كریں، انھوں نے اللہ سے مدد مانگی اور ارادہ كیا اب ھر طرح كی مشكلات پر فائق آ سكتا ھوں اور تاریكی سے نكل كر روشنائی میں آسكتا ھوں، آخر الامر انھوں نے شیعہ مذھب اختیار كرنے كا اعلان كردیا ۔

تالیفات

1۔ كلام جدید شہید صدر كی نگاہ میں

یہ كتاب عربی زبان میں ھے جسے ادارہ مركز ابحاث عقائدیہ قم نے ۔ سلسلہ " الرحلۃ الی الثقلین" كے ضمن میں شایع كیا ھے ۔

یہ ایك تحلیلی كتاب ھے جس میں شھید محمد باقر الصدر كے كلامی مباحث اور كلام جدید كا تذكرہ ھے، كتاب تین فصلوں اور ایك خاتمہ پر مشتمل ھے ۔

الف) مراحل علم كلام ۔ ب) معالم كلام جدید ۔ ج) مضامین كلام جدید ۔

2 ۔ درس عقائد كا نیا طریقہ ۔

3 ۔ انتظار (عربی زبان میں "فصول فی ثقافۃ الانتظار" كے نام سے یہ كتاب ھے) اس كے علاوہ الثقافۃ الاسلامیۃ دمشق، رسالۂ المنھاج بیروت رسالۂ النور لندن جیسے رسالوں میں آپ كے متعدد مضامین شایع ھوئے ھیں ۔

                                                               گروہ ترجمہ سایٹ صادقین


متعلقہ تحریریں:

 سيد حسن نصراللہ کا انٹرويو

آیۃ اللہ العظمی سید محمد حسین فضل اللہ دام ظلہ کا انٹرویو