• صارفین کی تعداد :
  • 2463
  • 9/17/2008
  • تاريخ :

ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے

تتلیاں

ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے

بکھر چلے ہیں ترا انتظار کرتے ہوئے

 

تو میں بھی خوش ہوں کوئی اُس سے جا کے کہہ دینا

اگر وہ خوش ہے مجھے بے قرار کر تے ہوئے

 

تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا

محبتوں کو بہت پائیدار کرتے ہوئے

 

میں مسکراتا ہوا آئینے میں اُبھروں گا

وہ رو پڑے گی اچانک سنگھار کرتے ہوئے

 

مجھے خبر تھی کہ اب لوٹ کر نہ آؤں گا

سو تجھ کو یاد کیا دل پہ وار کرتے ہوئے

 

وہ کہہ رہی تھی سمندر نہیں ہیں آنکھیں ہیں

میں اُن میں ڈوب گیا اعتبار کرتے ہوئے

 

بھنور جو مجھ میں پڑے ہیں وہ میں ہی جانتا ہوں

تمہارے ہجر کے دریا کو پار کرتے ہوئے

 

 

شاعر کا نام : وصی شاہ

 ترتیب و پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان

 


متعلقہ تحریریں:

 گل رنگیں

 کسی سے دل کی حکایت کبھی کہا نہیں کی

 آج یوں موسم نے دی جشن محبت کی خبر

 مرزا غالب 

 ایک رہگزر پر

 کل نالۂ قمری کی صدا تک نہیں آئی

 جو چل سکو تو کوئی ایسی چال چل جانا

 مایوس نہ ہو اداس راہی