• صارفین کی تعداد :
  • 4010
  • 8/30/2008
  • تاريخ :

روزے کی بعض حکمتیں

رمضان الکریم

روزہ ، اللہ تعالی کی انعام کردہ نمعتوں کا شکرادا کرنے کا وسیلہ ہے ، روزہ کھانا پینا ترک کرنے کا نام ہے اورکھانا پینا ایک بہت بڑی نعمت ہے ، لہذا اس سے کچھ دیر کےلیے رک جانا کھانے پینے کی قدروقیمت معلوم کراتا ہے ، کیونکہ مجہول نمعتیں جب گم ہوں تو وہ معلوم ہوجاتی ہیں ، یہ سب کچھ اس کے شکر کرنے پر ابھارتا ہے ۔

روزہ ، حرام کردہ اشیاء کو ترک کرنے کا وسیلہ ہے ، کیونکہ جب نفس اللہ تعالی کی رضامندی کےلیے اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرتا ہوا کسی حلال چيز سے رکنے پر تیار ہوجاتا ہے تو وہ حرام کردہ اشیاء کو ترک کرنے پر بالاولٰی تیار ہوگا ، لہذا اللہ تعالی کے حرام کردہ کاموں میں روزہ بچاؤ کا سبب بنتا ہے ۔

روزہ ، مساکین پر رحمت ، مہربانی اورنرمی کرنے کا باعث ہے ، اس لیے کہ جب روزہ دار کچھ وقت کے لیے بھوکا رہتا ہے تو پھر اسے اُس شخص کی حالت یاد آتی ہے جسے ہروقت ہی کھانا نصیب نہيں ہوتا ، تو وہ اس پرمہربانی اور رحم اور احسان کرنے پر ابھارتا ہے ، لہذا روزہ مساکین پر مہربانی کا باعث ہے ۔ 

روزے میں شیطان کے لیے غم وغصہ اورقہر اوراس کی کمزوری ہے ، اوراس کے وسوسے بھی کمزور ہوجاتے ہیں جس کی بنا پر انسان معاصی اورجرائم بھی کم کرنے لگتا ہے ، اس کا سبب یہ ہےکہ جیسا کہ حدیث میں بھی وارد ہے کہ شیطان انسان میں خون کی طرح گردش کرتا ہے ، تو روزے کی بنا پر اس کی یہ گردش والی جگہیں تنگ پڑ جاتی ہیں جس سے وہ کمزور ہوجاتا ہے اوراس کے نتیجے میں شیطان کا نفوذ بھی کمزور پڑجاتا ہے ۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے:

بلاشبہ کھانے پینے کی وجہ سے خون پیدا ہوتا ہے ، اس لیے جب کھایا پیا جائے تو شیطان کی گردش کی جگہوں میں وسعت پیدا ہوجاتی ہے جوکہ خون ہے اورجب روزہ رکھا جائے تو شیطان کی گردش والی جگہیں تنگ ہوجاتی ہيں ، جس کی بنا پر دل اچھائي اوربھلائي کے کاموں پر آمادہ ہوتا اوربرائي کے کام ترک کردیتا ہے ۔

                                                                            بحوالہ ؛ مجموع الفتاوی


متعلقہ تحریریں:

تطھیر وتزکیہ

فطرت کے تقاضے

آزادی یا پابندی

ضعف یا قوت

خود شناسی

ترک معمولات یازندگی کی یکسانیت سے نجات

قرآن میں روزہ کا حکم

اھل مغرب کی روش اور اس کا انجام

روزہ کا ظاھر وباطن

فلسفہٴ روزہ