• صارفین کی تعداد :
  • 3644
  • 8/30/2008
  • تاريخ :

دو دن روزہ خوری کے

شهر القرآن

بہت سے ابھی باقی ہیں جوخلوصِ نیت سے روزے بھی رکھتے ہیں . ایک صاحب(جن کے بارے ہمیں علم تھا کہ روزے سے نہیں)رمضان بازار سے ڈھیروں پھل لئے جا رہے تھے۔ ہم نے حیرت سے پوچھا""حضور! اتنا سامان ؟آخر کس لئے؟""

""افطاری کے لئے۔""انھوں نے جواب دیا۔

""اچھا تو کوئی افطار پارٹی دے رہے ہیں آپ۔"" ہم نے گردن ہلائی۔

""جی نہیں۔ یہ اپنی افطاری کا انتظام ہے۔""

""جب آپ نے روزہ ہی نہیں رکھا تو افطاری۔۔چہ معنی؟""

""لو!روزہ نہیں رکھا تو افطاری کے ثواب سے بھی محروم رہیں کیا؟""انھوں نے قدرے غصّے سے کہا اور آگے بڑھ گئے۔یہ انھی ایک کا معاملہ نہیں،

ڈوھونڈیئے تو ہزار ملتے ہیں۔روزہ نہ رکھنے کا کوئی نہ کوئی شرعی یا غیرشرعی جواز رکھتے ہیں اور افطارپارٹیوں میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ابھی کل ہی ایک مہربان کو پہلی اذان پر روزہ کھولتے دیکھ کر ہم ان کی مذہبی رواداری کے قائل ہوتے ہوتے رہ گئے۔صورتِ حال یہ تھی کہ باقی لوگ دوسری اذان کے منتظر تھے اور وہ مہربان بےتحاشا کھائے چلے جا رہے تھے۔بعد میں علم ہوا کہ وہ روزے سے نہیں تھے۔ نامعلوم کیوں؟بعض لوگ روزہ چھوڑنے پر کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔جب کہ خود ہمیں ایک مرتبہ بوجوہ دودن کے روزے چھوڑنا پڑے تو تمام دن دوسروں سے یوں نگاہیں چرائے پھرتے رہے جیسے ان سب نے ہمارے مونہہ پر ""روزہ خوری"" کی تحریر پڑھ لی ہو۔سوائے دوا اور پانی کے مجال ہے کہ کچھ کھانے پینے کی ہمت ہوئی ہو۔بہ صد اصرار ۔۔۔ایک اورروزہ خور دوست چائے پلانے لے گئے تو خواجہ چوک سے بس اڈے تک کا سارا علاقہ چھان مارا۔ چائے کہیں بھی نہ ملی۔اُدھر دوست کا مصمم ارادہ کہ چائے پئیں گے،اِدھر ہم پریشان کہ کسی نے پردہ پوش ہوٹل میں گھستے یا چائے پیتے دیکھ لیا تو ""عزتِ صدیقیاں""خاک میں مل جائے گی۔

خیر!اللہ کا بہت کرم ہوا کہ چائے دستیاب نہ ہوئی اور ہم ہوٹلوں سے دھواں اٹھتا دیکھے بنا واپس آ گئے۔یہ دن کا ماجرا تھا۔ شام کو اس سے بھی زیادہ ذہنی تکلیف ہوئی۔ہرفرد افطاری کی تیاری میں مصروف دکھائی دیا۔ کہیں پھل خریدے جا رہے تھے کہیں سموسے پکوڑے۔کسی کے ہاتھ میں شربت کی بوتل تھی تو کوئی جوس یا دودھ اٹھائے جا رہا تھا۔ گھر میں بھی برتنوں کی اٹھا پٹخ جاری تھی۔ اتفاق سے مغرب کے وقت بھی ہم باہر تھے۔اکثر دکانیں بند تھیں لیکن کھلی دکانوں میں لوگ کائونٹرز،ڈیسک یا دری پر افطاری کا مال سجائے اذان کے منتظر تھے۔ریڑھیوں اور ہوٹلوں پر ایک ہجوم نظر آرہا تھا۔ جیسے ہی اذانیں شروع ہوئیں۔۔روزہ افطار کیا جانے لگا۔ دوچار لقمے کھانے کے بعد چائے نوش جلدی جلدی چائے کے گھونٹ بھرنے لگے۔جو سگریٹ کے عادی تھے اور دن بھر رو زے کی وجہ سے دھواں نہ اگل سکے تھے مساجد کے دروازوں سے کچھ پرے سگریٹ کے کش پر کش لگا رہے تھے۔آخر نماز بھی تو پڑھنی تھی۔

مختصر یہ کہ روزے کی حالت میں ہمیں شہر سارے کا سارا روزہ خور دکھائی دیتا تھا ۔آج سوائے ہمارے سب لوگ روزہ دار محسوس ہو رہے تھے۔ دیکھا جائے تو روزہ خوری کے سبب اس کیفیت کا شکار ہونے میں ہماری نیک نیتی سے زیادہ بزرگوں کی تربیت کا اثر تھا۔ ہمارے بڑوں نے ہوش سنبھالتے ہی روزہ رکھنے کی عادت ڈلوائی تھی۔ سارے گھر والے سحری کے وقت بیدار ہو کر نماز اورقرآن پاک پڑھتے۔

ماحول کا یہی اثر ہمارے مزاج میں رچ بس گیا۔ مگر شاید ہم اپنی آئندہ نسل کو ایسی تربیت نہیں دے سکے۔ کیوں کہ خوفِ خدا اور احترامِ رمضان کی جو حالت اب نظر آتی ہے وہ پہلے نہیں تھی۔ حالاں کہ پہلے رمضان کے احترام کے لئے آرڈیننس جاری نہیں ہوتے تھے اور نہ ہی رمضان کے آتے ہی عام استعمال کی اشیا مہنگی ہوتی تھیں۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ذخیرہ اندوز اپنی مرضی کے دام کھرے کرتے ہیں اور رمضان کے تقدس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ بیمار مرغیاں،باسی سبزیاںاورپرانا مال بیچنے کے لئے ""رمضان سیل"" کا اہتمام کرتے ہیں۔""پردہ پوش""ہوٹلوں میں اشیائے خوردونوش کی بہتات ہے۔ خودہم حصولِ ثواب کے لئے کم اور دوستوں کی خوشنودی کے لئے افطار پارٹیوں کا اہتمام زیادہ کرتے ہیں۔ریڈیو اورٹی وی بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں۔انھیں دیکھ ،سن کر محسوس ہی نہیں ہوتا کہ ایک اسلامی ملک میں رمضان کا پاک اور با برکت مہینا آن پہنچا ہے۔ڈرامے،فلمیں،موسیقی۔۔۔اسی طرح جاری ہیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ سبھی ایسے ہیں ۔بہت سے ابھی باقی ہیں جوخلوصِ نیت سے روزے بھی رکھتے ہیںاورصدقِ دل سے اس کے لوازمات بھی مکمل کرتے ہیں۔یقیناً ایسے ہی لوگوں کے دم سے رمضان المبارک کا مہینا اپنی تمام رحمتوں،بخششوں اور برکتوں کے ساتھ موجود دکھائی دیتا ہے۔

                                                                 نوید احمد صدیقی